| 83075 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارےہاں یہ بات کافی مشہور ہے کہ جو شخص دس محرم کو غسل کر لے یا سرمہ لگا لے تو پورا سال اس کی آنکھیں خراب نہیں ہوتیں اور دکھتی نہیں،یہ باتیں شرعی لحاظ سے کسی حد تک درست ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ باتیں کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے،بلکہ اس حوالے سے جو احادیث نقل کی جاتی ہیں وہ من گھڑت اور موضوع ہیں۔
حوالہ جات
"تذكرة الموضوعات للفتني "(ص: 118):
"فِي الْمُخْتَصر «مَنِ اكْتَحَلَ بِالإِثْمِدِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ لم ترمد عينه أبدا» لجَماعَة مَرْفُوعا قَالَ الْحَاكِم مُنكر قلت بل مَوْضُوع كَمَا قَالَ ابْن الْجَوْزِيّ، قَالَ المذنب وَكَذَا قَالَ الصغاني".
"الموضوعات لابن الجوزي" (2/ 201):
"ومن اغتسل يوم عاشوراء لم يمرض مرضا إلا مرض الموت، ومن اكتحل يوم عاشوراء لم ترمد عينيه تلك السنة كلها".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
29/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


