03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر والوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر طلاق نامے پر دستخط کرنا
83064طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

محترم مفتی صاحب! آپ سے پہلے بھی یہ مسئلہ پوچھا گیا تھا،لیکن آپ نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ تحریر کرکے بھیجا جائے،اس لئے اب تحریر کرکے بھیج رہا ہوں،مسئلہ کچھ یوں ہے کہ :

میری شادی کو پانچ سال ہوگئے تھے،مگر کچھ میڈیکلی ایشوز کی وجہ سے بچہ وغیرہ نہیں تھا،جس کی وجہ سے گھر میں مسئلے بننے شروع ہوگئے اور پھر مجھ پر زیادہ پریشر ڈالنا شروع کردیا کہ دوسری شادی کرو،یہاں تک کہ میری دوسری شادی کروادی،حالانکہ میں خود دوسری شادی کے حق میں نہیں تھا،لیکن گھر والوں کے پریشر اور ایموشنل بلیک میلنگ کی وجہ سے مجبور ہوگیا تھا۔

پھر گھر والوں نے چوری چھپے میرا شناختی کارڈ نکال کر طلاق کے پیپر بنوالئے،ساری کاغذی کاروائی مجھے بتائے بغیر کی گئی،اس کے بعد گھر والوں نے طلاق کے لئے جھگڑے شروع کردیئے،ہر روز اس پر جھگڑا ہوتا کہ طلاق دے دو،ورنہ کوئی تمہارا باپ ہے نہ ماں،نہ بھائی نہ بہن،سب کو چھوڑ سکتے ہو تو اسے رکھ لو،مگر میں نہیں مان رہا تھا،پھر یہ کہا کہ دونوں میں سے ایک کو چھوڑ دو،میں نے کہا ٹھیک ہے دوسری والی کو چھوڑ دیتا ہوں،یہ سن کر کہنے لگے کہ تم سب گھر والوں کو چھوڑ سکتے ہو،لیکن اس اکیلی کو نہیں چھوڑ سکتے،یہ لڑائی جھگڑا روز کا معمول بن گیا تھا،امی ہر دن جھگڑتی،روتی اور بیہوش ہوجاتی،گھر والے کہتے کہ اگر ہماری ماں کو تمہاری وجہ سے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار تم ہوگے اور بڑا بھائی مجھے بار بار مارنے کو دوڑتا اور کہتا کہ اگر تم نے طلاق نہ دی تو میں تمہیں گولی ماردوں گا اور کبھی کہتا کہ تمہارے ہاتھ توڑ کر بھی دستخط کروالوں گا۔

ادھر روز رونے دھونے کی وجہ سے امی کی طبیعت خراب ہوگئی اور اکثر بے ہوش ہوجاتی،جس کی وجہ سے میں اندر سے بہت ڈر گیا تھا،گھر والوں کے روز کے جھگڑوں کی وجہ سے میں نفسیاتی مریض بن گیا تھا،دماغ کام نہیں کرتا تھا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

پھر ایک دن جمعہ کو سب گھر والوں نے بہت جھگڑا کیا اور بھائی بولا کہ آج میں اسے ماردوں گا،امی ابو نے بھی ہاتھ جوڑدیئے کہ لوگ تو اپنے ماں باپ کے لئے بہت کچھ کردیتے ہیں،تم ایک لڑکی کو نہیں چھوڑ سکتے،ان کی حالت اور آنسو دیکھ کر میں نے دستخط کردیئے،مگر اللہ گواہ ہے میں نے خود سے کچھ بھی نہیں لکھا تھا،نہ ایک لفظ پڑھا تھا کہ اس پر کیا لکھا ہے اور کیا نہیں،جو کچھ بھی ہوا یا کروایا گیا،سب کچھ مجبوری اور زبردستی میں کروایا گیا،میری اس میں ذرہ بھی مرضی شام نہیں تھی۔

کیا اس طرح زبردستی اور مجبوری میں دستخط کرنے سے طلاق ہوجاتی ہے،کیونکہ اس میں میری  مرضی شامل نہیں تھی،بلکہ حالات سے مجبور ہوکر دستخط کئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر دستخط کرتے وقت آپ کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی،بلکہ آپ نےطلاق کی نیت کے بغیر محض اس ڈر کی وجہ سے دستخط کئے کہ آپ کو اس بات  کا یقین یا ظن غالب تھا کہ اگرآپ اس طلاق نامہ پر دستخط نہ کرتے تو آپ کے بڑے بھائی آپ کو گولی ماردیتے،یا  آپ کی والدہ پریشانی کی وجہ سے فوت ہوجاتی یا کسی موذی مرض میں مبتلا ہوجاتی اور والدہ کے فوتگی یا موذی مرض میں ابتلاء کا غم آپ کے لئے ناقابلِ برداشت تھا، تو پھر مذکورہ صورت میں طلاق نامے پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (1/ 379):

"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

"الدر المختار " (6/ 129):

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى ".

"البحر الرائق " (3/ 264):

"وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

29/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب