| 84053 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
تعارف:
میرا نام فاطمہ (فرضی نام) ہے،میں زاہد (فرضی نام)کی دوسری بیوی ہوں،جبکہ ان کی پہلی بیوی کا نام صابرہ آصف ہے۔
سوال:
میرے شوہر زاہد (فرضی نام)نے مجھے کہا کہ اگر میں پہلی بیوی کے گھر گیا تو اس پر طلاق اور کوئی تعلق قائم کیا تو اس پر بھی (پہلی بیوی کو)طلاق۔
اسی طرح میرے شوہر نے اپنی بہن کے گھر بیٹھ کر ویڈیو کال پر مجھ سے کہا کہ اگر ان کی پہلی بیوی نے مجھے یعنی فاطمہ (فرضی نام) کو چھوڑنے کا کہا تو اس بتادوں کہ میں اس کو تین طلاق دے چکا ہوں۔
حالاتِ حاضرہ:
زاہد (فرضی نام)کی پہلی بیوی کافی بار دوسری بیوی کو چھوڑنے کا مطالبہ کرچکی ہے اور زاہد (فرضی نام)پہلی بیوی کے گھر میں رہائش رکھے ہوئے ہیں۔
پرانی تفصیل:
میں فاطمہ (فرضی نام) ہوں،میری آٹھ ماہ پہلے زاہد (فرضی نام)سے شادی ہوئی ہے اور شادی اس شرط پر ہوئی تھی کہ وہ پہلی بیوی سے دوسری شادی کی اجازت لیں گے اور اس کے پاس بھی نہیں جائیں گے،یہ شرائط اسٹام پیپر پر تحریر کرکے پہلی بیوی کے بیٹے کی موجودگی میں اس سے دستخط بھی کروائے تھے۔
اسٹام پیپر پر درج تحریر کا متن یہ ہے :
مسمی صابرہ آصف ولد مرزا نہال حسین اپنے شوہر زاہد (فرضی نام)ولد یاسین علی کو اپنی خوشی سے دوسری شادی کی اجازت دے رہی ہوں،مزید یہ کہ میں اپنے ازدواجی حقوق سے دستبردار ہورہی ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ میرے شوہر کی پہلی بیوی کوطلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
تنقیح: پہلی دو تعلیقات اور تین طلاقوں کے اقرار کے درمیان آٹھ دس دن کا فاصلہ تھا اور اس وقت تک شوہر بیوی کے گھر نہیں گیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں پہلی بیوی کے گھر جانے اور اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جبکہ ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے شوہر کی جانب سے پہلی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے اقرار سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر شوہر نے دوسری بیوی کو مطمئن کرنے کے لئے اس کے سامنے پہلی بیوی کو طلاقیں دینے کا جھوٹا اقرار کیا ہو تو پھر جب تک پہلی بیوی کو کسی معتمد ذریعے سے اس اقرار کا علم نہ تو اس کے ذریعے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،لیکن اگر وہ اپنے اس اقرار میں سچا ہو اس طور پر کہ وہ پہلی بیوی کو تین طلاقیں دے چکا ہو،یا پہلی بیوی کو کسی معتمد ذریعے سے اس اقرار کاعلم ہوجائے توپھر پہلی بیوی شوہر پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی اور ان دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں رہے گا۔
تاہم اگر شوہر نے اقرار سے قبل پہلی بیوی کو اعتماد میں لیا ہو کہ وہ دوسری بیوی کو مطمئن کرنے کے لئے جھوٹا اقرار کرے گا،یا اس نے اس بات پر دو گواہ بنالئے ہوں،یا مختلف خارجی قرائن کی وجہ سے بیوی کو پختہ گمان یا یقین ہوجائے کہ شوہر نے جھوٹا اقرار کیا ہے تو پھر اس اقرار سے کوئی طلا ق واقع نہیں ہوگی۔("احسن الفتاوی"161/5:)
حوالہ جات
"رد المحتار"(3/ 236):
"ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ".
"البحر الرائق " (3/ 264):
"وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.
وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة، والإقرار بالعتق كالإقرار بالطلاق وقيده البزازي بالمظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا قال يصدق في الحرية، والطلاق جميعا وهذا صحيح اهـ".
"الدر المختار " (3/ 355):
"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا".
"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ": (ج 3 / ص 285) :
"( فإن وجد الشرط فيه ) أي في الملك بأن كان النكاح قائما أو كان في العدة (انحلت اليمين ووقع الطلاق ".
"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي" (8/ 6286):
"العلم الشخصي للقاضي نفسه: إذا اطلع القاضي على الحادثة، فهل له القضاء بعلم نفسه؟ اختلف الفقهاء فيه.
قال متقدمو الحنفية: يقضي القاضي بعلم نفسه، بالمعاينة أو بسماع الإقرار أو بمشاهدة الأحوال على النحو الآتي:
له أن يقضي بعلم حدث له زمن القضاء وفي مكانه في الحقوق المدنية كالإقرار بمال لرجل، أو الحقوق الشخصية كطلاق رجل امرأته، أو في بعض الجرائم: وهي قذف رجل أو قتل إنسان. ولا يجوز قضاؤه بعلم نفسه في جرائم الحدود الخالصة لله عز وجل، إلا أن في السرقة يقضي بالمال، لا بحد القطع؛ لأن الحدود يحتاط في درئها، وليس من الاحتياط فيها الاكتفاء بعلم القاضي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
02/ذی الحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


