03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبر دستی کی وجہ سے طلاق نامہ پر دستخط کرنا
84041طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

میرے شوہر بشیر احمد جنکی عمر 73 سال ہے، اور ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے، جو شادی شدہ ہیں ، پہلی بیوی فوت ہوگئی تھی ، میرے ساتھ شادی 2014-10-24 کو ہوئی ، میرانام گل صنوبرہے ، میری عمر 53 سال ہے ، میرے سوتیلے بیٹے شادی کے 2  سال بعد آئے ، اور آتے ہی باپ کو ٹارچر کرنا شروع کیا ، اور کہتے کہ بیوی کو طلاق دے دو  ،اور گھر ہمارے نام کردو ، میرا شوہر مجھے طلاق نہیں دینا چاہتا تھا ، بیٹوں نے کہا طلاق لکھ دو ، ورنہ تم کو ماردیں گے یا خود کو ماردیں گے ، بڑے بیٹے نے زور سے اپنے سر پر ڈنڈی  ماری  جس کے بعد خون نکلا ، تو باپ پریشان ہو گیا کہ مرنہ جائے ٗ،اس لئے مجبور ہو گیا ، بیٹے طلاق نامہ لے کر آئے ،زبردستی طلاق لکھواکر بھیجی جو مجھے نہیں ملی کسی اور کے گھر پہنچی انہوں نے بتایا کہ ہم نے T.C.S کو اسی وقت واپس کردیا ۔میرے شوہر نے قسم کھائی تھی کہ میں تم کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ، میرے بیٹے ذہنی مریض ہیں ، میں تمہارے ساتھ ہوں،میرے شوہر کے بیٹے نے 2020-9-13کو ہم دونوں پر فائرنگ کی ، اور ہم بال بال بچ گئے ، اس کے بعد باپ کو اور مجھے منہ پر جوتے مارے ،اور مجھے جلانے کی کوشش کی ، اور گلہ دبایا اور قینچی سے گلے پر اور ہاتھ پر زور سے مارا ۔

   مولانا صاحب میرا کیس کوٹ میں چل رہاہے کہ ایک وقت میں تین طلاقیں جبرا دی گئی ہیں جو مجھے قبول نہیں ہے 2023-8-20 کو 7دن بعد فیصلہ ہے ، خدارا مجھے فتویٰ لکھ کر بھیجیں میری زندگی تباہ ہونے سے بچائیں۔مولانا صاحب میں نے پڑھاہے،قرآن پاک میں لکھا ہے کہ ایک وقت میں 3 طلاقیں طلاق نامہ پر ایک ہی سمجھی جاتی ہیں ، اور اسی طرح جبرا لکھی ہوئی کی کوئی اہمیت نہیں ۔اور قرآن میں لکھا ہے 2 گواہ اپنے میں سے ہوں ، مولانا صاحب گواہ نہ مجھے جانتا ہے اور نہ میرے شوہر کو ، راستے سے پکڑ کر دو گواہ بیٹے نے بھیج دیے، جس کو میرے شوہر اور میرے ایڈریس تک پتہ نہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ شوہر کے بیٹوں  نے اسے مذکورہ دھمکیاں دیکر زبر دستی طلاق نامہ پر دستخط کر وائے ہیں ،  تو ایسے میں اگردستخط کرتے وقت شوہر کو یہ ڈر بھی تھا کہ شوہر کے بیٹے وہ کام کربھی لیں گے جس کی وہ دھمکی دے رہے تھے ،تو اس صورت میں اگر ٓ شوہر نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہے  بغیر صرف طلاق نامہ پر دستخط کئے ہیں  تو یہ طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن  یاد رہے کہ مذکورہ صورت میں اگر شوہر نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہہ دیے  ہیں تو بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔ رہا یہ کہنا   کہ قرآن میں یہ لکھا ہے  کہ  تین طلاقیں ایک سمجھی جاتی ہیں  تو یہ بالکل  غلط بات ہے ،صحیح بات یہ ہے کہ قرآن وسنت،جمہورصحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین اور  ائمہ اربعہ ،سب کے نزدیک  تین طلاقیں ایک ساتھ  دینے سےتینوں ہی طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں ۔ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ جبرا لکھی گئی طلاق کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔تاہم طلاق کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں ہے ۔

حوالہ جات

قال أبو بكر: قوله تعالى: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} الآية، ‌يدل ‌علی وقوع ‌الثلاث معا مع كونه منهيا عنها، وذلك ؛لأن قوله: {الطلاق مرتان} قد أبان عن حكمه إذا أوقع اثنتين بأن يقول أنت طالق أنت طالق في طهر واحد؛وقد.(‌‌أحكام القرآ للجصاص : 1/467)

الإكراه (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصيزر به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا….. وفيه بعد أسطر(وصح نكاحه وطلاقه وعتقه) لو بالقول لا بالفعل كشراء قريبه ابن كمال.( ردالمحتار : 6/128)

ذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.( ردالمحتار : 233/3)

وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا.( الفتاوی الھندیۃ : 349/1)

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠].( بدائع الصنائع : 187/1)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

28 ٖذوالقعدْہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب