| 84124 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرا مسئلہ یہ ہے کے میرا اور میری بیوی کاجھگڑا ہوا تھا، لڑکی کے والد اس کو آکے لے گئے ، میں نے جب اگلے دن بیوی سے رابطے کے لیے بیوی کو کال کی تو کال اس کے والد نے اٹھائی اور مجھے دھمکیاں دینے لگے ،یہ بات میں نے اپنے والد کو بتائی ،تو میرے والد نے کہا: ٹھیک ہے، دیکھتے ہیں، اگلے دن جب میں کام سے گھر آیا، تو میرے والد نے بتایا کہ لڑکی کے والد کی طرف سے کال آئی ہے، وہ طلاق مانگ رہے ہیں، میں نے کہا ،سوچ کے بتاتا ہوں ۔میں اپنے کمرے میں گیا اور اپنی بیوی کو کال کی اور ان کو ساری بات بتائی کہ آپ کے والد طلاق مانگ رہے ہیں، تو وہ رونے لگی اور ہماری بیٹی کے واسطے دینے لگی کہ مجھے طلاق مت دو اور مجھے شام کو آکے لے جاؤ ،میں نے یہ ساری بات اپنی امی کو بتائی اور بیوی کو واپس لانے کا بتایا ۔یہ ساری باتیں میرے والد سن رہے تھے ،تو وہ مجھ پر غصہ ہوئے اور بولے کہ اگر آپ اپنی بیوی واپس لاؤگے، تو میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا، پھر آپ کو کوئی میرے سامنے مارے، پیٹے یا جان سے مار دے، میں لکھ کے دے دوں گا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔یہ سن کر میں اپنے کمرے میں چلا گیا ،اگلے دن میرے والد نے میرے منہ بولے چاچو کو بلوایا اور مجھے کہا ، طلاق نامہ بنوانے جانا اور میرے منہ بولے چاچو سے کہا کہ اس سے ایک بار پوچھ لو ،یہ کیا کہتا ہے؟ میرے چاچو نے مجھ سے طلاق دینے کا پوچھا ، تو میں نے طلاق دینے سے انکا رکر دیا تو میرے والد نے پھر وہی بات بولی کہ اگر آپ اپنی بیوی کو لاؤ گے، تو میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا ،تو پھر میں خاموش ہوگیا ،اتنے میں میرے والد بولے کہ اٹھو طلاق نامہ بنوانے چلو ، راستے میں میرے چاچو باربار طلاق کا پوچھتے رہے اور میں منع کرتا رہا۔ ڈی سی آفس پہنچنے کے بعد میرے چاچو نے میرے والد سے دوبارہ کہا :ایک بار پھر سوچ لو ،طلاق دینی ہے یا نہیں ؟ تو میرے والد نے کہا :دینی ہے۔ میرے چاچو کے پھر اصرار کرنے پر میرے والد نے کہا: میں تھوڑا سائیڈپہ جاتا ہوں ،آپ اس سے پوچھ لو، یہ کیا چاہتا ہے؟ تو میرے چاچو نے دوبارہ مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے ،تو میں نے چاچو کو پوری بات بتائی کہ میں یہ طلاق نہیں دینا چاہتا، کیوں کہ میری بیوی بھی طلاق نہیں چاہتی اور میرا بھی طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہمیں ایک آخری موقع ملنا چاہے۔ اتنی دیر میں میرے والد آگئے ، تو یہ ساری بات میرے چاچو نے میرے والد کو بتائی، تو میرے والد نے وہی پہلے والی بات کہی کہ اگر آپ اپنی بیوی واپس لاؤگے، تو میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا ،پھر آپ کو کوئی میرے سامنے مارے، پیٹے، یا جان سے مار دے، میں لکھ کے دے دوں گا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بات سن کر میرے چاچو نے کہا کہ چلو طلاق نامہ بنواؤ، پھر میرے والد نے طلاق نامہ بنوانے کے لیے دے دیا اور گھر آگئے۔ یہ بات میری بیوی کو معلوم ہوئی ، تو وہ رونے لگی ،بچی کے واسطے دینے لگی ۔یہ بات میں نے اپنے والد کو بتائی، تو انہوں نے پھر اپنی پرانی بات دہرائی، پھر مجھ سے طلاق نامہ پہ سائن کروا لیے ،اس طلاق میں میری اور میری بیوی کی کوئی رضا مندی نہیں تھی ، کیا ایسےمیں طلاق ہو جائے گی ؟
.........
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں جو صورتحال ذکر کی گئی ہے ، اس میں کوئی ایسا جبر، دباؤ او ر زبردستی نہیں پائی جارہی کہ جس کی وجہ سےآپ طلاق نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور ہوگئے اور نہ ہی والد نے جانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی ،صرف ان کی معمولی تنبیہ اور تعلق ختم کرنے کے خدشہ سے آپ نے دستخط کردیئے ہیں ،لہذا اس صورت میں اپنی رضامندی نہ پائے جانے کا عذر پیش کرنا از روئے شرع معتبر نہیں ۔
لہذا منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کرتے ہی آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور دستخط کے وقت سے عدت کی مدت بھی شروع ہوگئی ہے، اب آپ دونوں میاں بیوی والے تعلقات نہیں رکھ سکتےاور نہ ہی تجدید نکاح کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 129):
(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا).
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع( 3 / 187):
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره).
الدر المختار وحاشية ابن عابدين: 3 / 246
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق.............فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
صفی اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
04/ذوالحجۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


