| 84075 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
عبد العزیز،عبدالحمیداورعبدالمجیدتین بھائی تھےاورایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھے،عبدالعزیز شادی شدہ تھے اورباقی دونوں بھائی غیر شادی شدہ ،عبدالعزیز کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، عبد العزیز کے انتقال کے بعد ان کی جائداد ان کی اولاد میں تقسیم کی گئی۔
عبدالعزیز کے دونوں بھائی جو کہ غیر شادی شدہ تھے ،عبد العزیزکے بڑے بیٹے مرید احمد کی کفالت میں آگئے اور ان کی کفالت میں ہی انتقال کر گئے۔
دونوں مرحوم چچاوں کی جائداد مرید احمد کے قبضے میں تھی، بعد میں مرید احمد کا بھی انتقال ہوگیا، اب عبدالعزیز کے بقیہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں اپنے بھتیجوں سے یعنی مرید احمد کی اولاد سے اپنے مرحوم چچاؤں کی جائداد میں سے اپنے لیےحصے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یعنی عبد الحمید اور عبد المجید کی جائداد جو کہ تقسیم نہیں ہوئی تھی،مرید احمد کے قبضے میں تھی، بعد میں ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد کی پاس ہے، اب سوال یہ ہےکہ مرید احمد کے بقیہ تین بھائی اور دو بہنیں اپنے مرحو م چچاؤں کی جائداد میں حقدار ہیں یا نہیں؟اگر ہیں تو ان کو کتنا حصہ ملے گا؟
مرید احمد کے بچوں کو کتنا حصہ ملے گا، کیونکہ مرحوم عبد الحمید اور عبد المجید مرید احمد کی کفالت میں انتقال کر گئے تھے؟تفصیل سےوضاحت فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چچا عبدالحمیداورعبدالمجیدکےانتقال کےوقت اگرمذکورہ ورثہ (چاربھتیجےاوردوبھتیجیوں )کےعلاوہ کوئی اوروارث موجود نہیں تھاتوچچاوں کی میراث کےحقدارشرعاصرف بھتیجےہوں گے،جتنی جائیدادہے،وہ چاربھتیجوں میں برابرتقسیم ہوگی،بھتیجیاں ( مریداحمدکی بہنیں) وارث نہیں ہونگی۔
کفالت کےذمہ لینےسےشرعاوراثت کےحق میں کمی زیادتی نہیں ہوتی،مریداحمدکااپنی زندگی میں چچاوں کی کفالت اپنےذمہ لینا،مریداحمدکی طرف سےاحسان اور صلہ رحمی کےپیش نظر تھا،اورعنداللہ اس کو اس کاثواب بھی ملےگا،ان شاءاللہ ۔لیکن اس کی وجہ سےچچاوں کی میراث میں سے(مریداحمدکےلیے) مزیدکوئی اضافی حصہ نہیں ہوگا،بلکہ میراث چاروں بھائیوں میں برابرتقسیم ہوگی۔
موجودہ صورت میں مریداحمد کےتین بھائیوں کی طرف سےاپنےحصہ میراث کامطالبہ کرناشرعادرست ہے،ایسی صورت میں مریداحمدکےبیٹوں پرلازم ہوگاکہ چچاوں کی طرف سےمیراث کا جتناحصہ بتناتھا،وہ مریداحمد کےبھائیوں کےحوالےکریں۔
بہنوں کاچونکہ شرعاحصہ نہیں ،لہذاان کی طرف سےمطالبہ بھی درست نہیں ۔
چونکہ مریداحمدنےچچاوں کی کفالت کی ہےاورذمہ داری اٹھائی ہےاورذاتی طوپراخراجات بھی کیےہونگے،اس لحاظ سےمریداحمد کےدیگربھائیوں کااخلاقی فرض بنتاہےکہ وہ خیرخواہی کےپیش نظر اپناحصہ یاتوکم وصول کریں،یاپھر معاف کردیں،لیکن یہ بھائیوں کی طرف سےاحسان اور خیرخواہی کےطورپرہی ہوگا،شرعامیراث میں ان کا اور مریداحمد کابرابرحصہ ہے،مریداحمد کی طرف سےان کوحصہ نہ دینا،یامریداحمد کےبیٹوں کی طرف سےحصہ دینےسےانکارکرناشرعادرست نہیں۔
حوالہ جات
"الدر المختار للحصفكي"7 / 377:
ابن الاخ لا يعصب أخته، كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته، بل المال للذكر دون الانثى لانها من ذوي الارحام۔
قال في الرحبية: وليس ابن الاخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب بخلاف ابن الابن وإن سفل فإنه يعصب من مثله أو فوقه ممن لم تكن ذات سهم ويسقط من دونه۔۔۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03/ذی الحجہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


