03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دواعی زنا سے حرمت مصاہرت کا ثابت ہونا
84881نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں: ماجد کا ایک عورت کے ساتھ جنسی تعلق تھا ،اب ختم ہوگیا۔ ماجد اس عورت کے پستانوں اور شرم گاہ کو کپڑوں کے ساتھ ہاتھ لگاتارہتاتھااور یہ دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ بھی چومتے تھے۔اس عورت نے دو، تین بار ماجد کے نفس کو ہاتھ لگایا بغیر کسی کپڑے  کے اور آپس میں گلے بھی ملتے تھے ،لیکن کبھی ننگے نہیں ملے اور نہ ہی ایک دوسرے کو اپنا  ننگا جسم دکھایا اور ایک بار نفس چھونے سےانزال ہوگیا۔

بعد میں اسی عورت کی بیٹی کے ساتھ اس کا نکاح طے  پاجاتاہے ۔ وہ عورت ان پڑھ بھی ہے ،اس کو نہیں پتا،لیکن ماجد کو بعدمیں’’حرمت مصاہرت‘‘کے مسائل کے بارے میں پتہ چلتاہےاور وہ اس پرمعلومات شروع کرتا ہے۔اب اگر ماجد اس عورت کی بیٹی سے نکاح نہیں کرتا  تو آپس میں اختلاف ہورہا ہے  اورممکن ہےکہ  کچھ رشتے بھی ٹوٹ جائیں ۔اب ماجد کو  یہ علم نہیں تھا کہ حرمت مصاہرت بھی ہوتی ہے ، وہ اپنے کیے   پر بہت ہی شرمندہ ہے اور اللہ تعالی سے توبہ بھی کی ہے ۔اب ذکرکردہ مسئلہ میں  ماجدپر حرمت مصاہرت لاگوہوتی ہے یا نہیں  ؟ اگر ہاں تو کوئی ایسی صورت جس سے اس مسئلہ کا حل نکالا        جاسکے ،کیونکہ ماجد نے شادی نہیں کی تو تقریباً تین خاندانوں میں رنجشیں بڑھیں گی اور آپس میں تعلقات  بھی ختم ہوں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں حرمت مصاہرت ثابت ہوچکی ہے، اب ماجد کےلیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں     ہے ۔لہذا ماجد پر لازم ہے کہ وہ اس لڑکی سے نکاح ہی نہ کرے اگر نکاح کر لیا ہے تواس کو طلاق کے الفاظ  یا’’میں نے اسے چھوڑدیا ‘‘کہہ کر چھوڑدے۔باقی خاندانی رنجشوں کا خاندان کے بڑوں سے مل کر کوئی حل نکالیں۔اس کی وجہ سے یہ حرام کاری جائز نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

قال العلامۃ علاءالدین الحصکفی رحمہ اللہ تعالی : (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما،به يفتی. (الدر المختار ،ص: 180)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله: (بحائل لا يمنع الحرارة) :  أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة ، فما في الذخيرة       من أن الإمام ظهير الدين      يفتي بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس، وإن كان على المقنعة محمول على ما إذا كانت رقيقة تصل الحرارة معها.   وقوله:( بشهوة    ) :أي  في موضع الحال. (ردالمحتار:32/3)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:‌أن ‌النكاح ‌لا ‌يرتفع بحرمة المصاهرة ، بل يفسد.

وقال :وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها ،كتركتك ، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول، وبالترك على قصد عدم العود إليها،وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما.(ردالمحتار:37/3)

وفي الفتاوی الھندیۃ :فإن نظرت المرأة إلى ذكر الرجل ،أو لمسته بشهوة ،أو قبلته بشهوة: تعلقت به حرمۃالمصاهرة. (الفتاوى الهندية: 1/ 274)

وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:وتثبت باللمس فيهما عن شهوة، وبالنظر إلى فرجها عن شهوة عندنا ولا تثبت بالنظر إلی سائر الأعضاء بشھوۃ  ،ولابمس سائر الأعضاء إلا عن شھوۃ بلا   خلاف.   

(بدائع الصنائع: 2/ 260)

وقال العلامۃابن الھمام رحمہ اللہ تعالی: قوله  :  (ومن مسته امرأة بشهوة) :أي بدون حائل أو بحائل رقيق تصل معه حرارة البدن إلى اليد….  . حرمت علیہ أمھا وابنتھا.(فتح القدير: 3/ 221)

شمس اللہ            

دارالإفتاء جامعۃالرشید،کراچی

‏04‏ ربیع الثانی‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شمس اللہ بن محمد گلاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب