| 84978 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
جو شخص بول بھی سکتا ہو،پڑھنا لکھنا بھی جانتا ہو تو کیا اشارہ کرنے سے اس کی طلاق واقع ہوجاتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو شخص بولنے پر قادر ہو، وہ اگر اشارے سے طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہو گی،کیونکہ اشارے سے طلاق کا واقع ہونا صرف گونگے شخص کے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (3/ 241):
"ويقع طلاق الأخرس بالإشارة، ويريد به الذي ولد وهو أخرس أو طرأ عليه ذلك ودام حتى صارت إشارته مفهومة وإلا لم يعتبر".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
12/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


