03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بولنے پر قادر شخص کے طلاق کے اشارے کا حکم
84978طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

جو شخص بول بھی سکتا ہو،پڑھنا لکھنا بھی جانتا ہو تو کیا اشارہ کرنے سے اس کی طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو شخص بولنے پر قادر ہو، وہ اگر اشارے سے طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہو گی،کیونکہ اشارے سے طلاق کا واقع ہونا  صرف گونگے شخص کے ساتھ خاص ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 241):

"ويقع طلاق الأخرس بالإشارة، ويريد به الذي ولد وهو أخرس أو طرأ عليه ذلك ودام حتى صارت إشارته مفهومة وإلا لم يعتبر".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب