03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نقل کے ذریعے نمبرات لینے کی بنیاد پر ملازمت کا حکم
85022جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ جب میں کراچی میں رہتا تھا ،نجی اسکول میں پڑھتا تھا ۔میں نے ساتویں آٹھویں جماعت تک بہت عمدہ تعلیم حاصل کی ہے اور کلاس میں بہت دفعہ ٹاپ بھی کیا ہے۔ پھر ہم اندرون سندھ منتقل ہوگئے۔ یہاں تعلیم کا بہت برا حال ہے۔ یہاں تعلیمی اداروں میں تعلیم کا بیڑاغرق ہے۔ پھر اسی دوران کورونا وائرس بھی آگیا تھا۔ ایک تو تعلیم کا اتنا بیڑا غرق ،پھر اس وباء کا آجانا ،پڑھائی سے جیسے دل اُچاٹ سا ہوگیا تھا، حالانکہ میں نے کوشش کر کے کچھ نجی ٹیوشن بھی لیں،لیکن بے سود ۔پھر جب ہمارے نویں دسویں جماعت کے امتحانات ہوئے تو اس میں تھوڑی بہت سختی تھی اور تھوڑی بہت نقل۔پہلی مرتبہ بورڈ کے پیپر دیے تھے اور تقریباً ہر سال تیاری کے ساتھ امتحان دیتا تھا ۔ پہلے سال اتنی خاص تیاری نہیں تھی جس کی وجہ سے ناکامی کا ڈر تھا ،تو کچھ پرچہ خود کرتے تھے اور کچھ نقل سے ،لیکن اس میں زیادہ نقل نہیں ہوئی تھی، لیکن نویں دسویں کے جو نتائج آئے تھے ان سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ نتائج بھی انصاف کی بنیاد پر مبنی نہیں ہے، کیونکہ جن چند طالب علموں نے ایک جیسا پرچہ دیا تھا ان کے نمبروں میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ پھر جب میں نے یہ امتحان پاس کر کے گیارہویں بارہویں جماعت کے لیے کالج میں داخلہ لیا تو وہاں بھی تعلیم کا بہت برا حال تھا، لیکن اس دفعہ میں نے پکا ارادہ کیا تھا پاس ہوں یا فیل، جو کروں گا اپنی محنت سے کروں گا ۔پھر میں نے کچھ پرچوں کی تیاری خود گھر پر کی، جو مشکل پرچے تھے ان کے لیے نجی ٹیوشن اور یوٹیوب کا بھی سہارا لیا، لیکن وہ بھی بے سود ثابت ہوا۔ تقریباً پرچے گیارہویں اور بارہویں کے میں نے اپنی محنت سے دیے۔ نتائج کی پرواہ کیے بغیر ،جس کے بعد میں اس میں بھی پاس ہوگیا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ آیا ایسی تعلیم کے بعد میں کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتا ہوں یا نہیں ،کیونکہ جس یونیورسٹی میں میں داخلہ لینا چاہتا ہوں وہاں پر محدود نشستیں ہیں ،اور اعلیٰ نمبر لینے والے طلبہ کو اسکالر شپ بھی دی جائے گی ۔میرے اندازے کے مطابق یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے پچاس فیصد پرانے نمبروں کو دیکھا جائے گا اور پچاس فیصد جو یونیورسٹی والے ٹیسٹ لیں گے اس سے دیکھا جائے گا ۔اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ پچاس فیصد پرانے نمبر تو شک و شبہ والے ہیں، تو ایسے میں کیا کیا جائے ،کیونکہ تعلیمی اداروں کا تعلیمی نظام میں آپ کو اوپر بتا چکا ہوں، اور اگر کچھ غفلت ہماری بھی ہو تو اصل قصور ان تعلیمی اداروں کا ہے جو اتنی گھٹیا تعلیم مہیا کرتے ہیں۔ اگر یہ اچھی تعلیم مہیا کرتے تو 100 میں سے 99 طلبہ نقل نہ کرتے۔ ہمارے بورڈ میں جہاں تک میں نے دیکھا نقل ہی نقل تھی اور تعلیم کے نام پر مذاق تھا ۔ باقی بورڈ سنا ہے کے وہ اچھے ہیں۔ اب اگر میں اپنی صلاحیت سے یونیورسٹی کا ٹیسٹ پاس کرلوں اور داخلہ لے لوں ،تو کیا یہ دوسرے طالب علموں کے ساتھ زیادتی ہوگی؟ دوسرا یہ کہ جب میں کسی سرکاری یا نجی ملازمت کے لیے اپلائی کرنے کا سوچتا ہوں تو پرانے نمبروں کی وجہ سے ہی نہیں کرتا ،حالانکہ میں جانتا ہوں کہ میں اس کام کی صلاحیت رکھتا ہوں ،مگر کسی کے ساتھ زیادتی کے ڈر سے نہیں کرتا۔ براہ کرم !رہنمائی فرمایئے۔ جزاک اللہ خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. امتحانات میں نقل کرنا  خیانت ، دھوکہ دہی  اور جھوٹ  جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے کہ وجہ سے ناجائز ہے،اس پر  اخلاص کے ساتھ توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔البتہ  سائل نے تعلیمی اداروں کا جو نظام ذ کر کیا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم یہ ہے کہ اگرسائل میں یونیورسٹی کا امتحان پاس کرنے کی صلاحیت ہےتو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی گنجائش ہوگی۔
  2. نقل کرکے حاصل کی گئی ڈگری پر نوکری کرنے کا حکم یہ ہے کہ  اگر سائل اس  ملازمت اور نوکری کی  مکمل  صلاحیت رکھتا ہو  اور اس کے تمام امور دیانت داری  کے ساتھ انجام دیتا ہو  تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی اور اگر سائل اس ملازمت کے لیے پوری طرح اہل نہیں ہے اور قانونا جو بنیادی اہلیت شرط ہے،وہ بھی اس کے پاس نہیں ہے اور جعلی کاغذات بنائے ہیں تو عقد ہی صحیح نہیں ہوگا،اور اگر اہل تو ہے  مگر دیانت داری سے کام نہیں کرتا ،تو اس  بددیانتی کے بقدر تنخواہ    حلال نہ ہوگی۔
حوالہ جات

إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗاﵞ [النساء: 58] 

يخبر تعالى أنه يأمر بأداء الأمانات إلى ‌أهلها. وفي حديث الحسن، عن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أد الأمانة إلى من ائتمنك، ولا تخن من خانك" رواه الإمام أحمد وأهل السنن، وهذا يعم جميع الأمانات الواجبة على الإنسان……(تفسیرابن کثیر:3/143)

أخرج الترمذي رحمه الله في" سننه" (3:1315/593)من حديث أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا»....... والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام.

سبیل الکسب الخبیث التصدق،اذا تعذر الرد علی صاحبہ.(حاشیۃ ابن عابدین:9/553)

احسن الفتاوی(8/184)

آپ کے مسائل اور ان کا حل(7/299)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

13/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب