| 85015 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !
امید ہے تمام حضرات خیریت سے ہوں گے ۔ایک سوال تھاکہ قمار اور جواتو حرام ہے ،لیکن کسی نے اس میں پیسے لگائے تواب اس میں لگائےگئے پیسے واپس لیناجائزہے یانہیں؟ اگر باحوالہ جواب مل جائے تو نوازش ہوگی ۔
سائل کاسوال کی وضاحت:
زید اور بکر نے جوا کھیلا ،زیدنے ایک لاکھ روپے جیت لیے تو کیا بکر کو شرعاًیہ حق ہے کہ زیدسے ان پیسوں کا مطالبہ کریں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ زید کے پاس یہ مال جواکے نتیجےمیں آیاہے جوکہ حرام ہے؛ لہذا زید پر یہ رقم بکر کولوٹانا واجب ہےاور بکر کےلیےشرعاً اس کےمطالبہ کا حق بھی حاصل ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ برھان الدین البخاري رحمہ اللہ تعالیٰ :فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين ،كان قماراً، والقمار حرام.(المحیط البرھاني:(323/5
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :وسمي القمار قمارًا ؛لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه ،وهو حرام بالنص.(ردالمحتارعلی الدرالمختار:(403/6
قال الشیخ نظام و جماعۃ من علماءالھندرحمھم اللہ : وهذا لأنه إذا كان الأخذ على الشرط ،كان المال بمقابلة المعصیة فكان الأخذ معصية، والسبيل في المعاصي ردها، وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه ،وبالتصدق به إن لم يعرفه.(الفتاوی العالمگریہ(349/5:
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال، وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام ،لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(ردالمحتارعلی الدرالمختار:(99/5
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


