| 85021 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بچے کی پیدائش کے وقت ڈاکٹر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ماں اور بچے دونوں میں سے کسی ایک کی جان بچ سکتی ہے،تو اس صورت میں باوجود کوشش کے ممکن نہ ہوتو دونوں میں سے کس کی موت کو ترجیح دینی چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ حمل کے اعضاء بن جانے اور اس میں جان پڑ جانے کے بعد (جس کی مدت تقریبا 120دن/چار مہینے ہے)کسی عذر کی وجہ سے حمل کو ساقط کرنا قتل ناحق اور گناہ کبیرہ ہے،جو کسی صورت جائز نہیں ہوسکتا ،اس لیے ایسی صورت میں جبکہ حمل میں جان پڑ چکی ہوصرف اس صورت میں اسقاط حمل کی گنجائش ہوتی ہے جب ماہر ،دیانتدار اکثر ڈاکٹرز کے بقول ماں کی جان کے لیے واضح اور یقینی طور پر خطرہ ہو۔ اگر ماں کی جان کو یقینی خطرہ نہ ہوتو ایسی صورت میں اسقاط حمل جائز نہیں۔لہذا صورت مسئولہ میں صرف ایک ڈاکٹر کی رائے کو کافی سمجھ کر فیصلہ نہ کیا جائے ،بلکہ اس کی بھر پور کوشش کی جائے کہ دیگر ماہر،دیانتدار ڈاکٹرز سے رابطہ کرکے ایسی صورت نکالی جائے جس سے ماں اور بچے دونوں کی جان کو بچایا جا سکے،کیونکہ سوال کے مطابق پیدائش کا وقت آچکا ہے،لہذا مناسب یہ ہے کہ آپریشن کے ذریعے ڈلیوری کرالی جائے۔پھر اگر بچہ اپنے طبی عوارض کی وجہ سے زندہ نہ رہ پائےتو انسانی جان لینے کا گناہ نہ ہوگا۔تاہم اگر کسی بھی موقع پر ماہر ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچیں کہ فوری اسقاط حمل نہ کیا گیا تو ماں کی جان جاسکتی ہے،تو اسقاط کی بھی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
مطلب في حكم إسقاط الحمل(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل.
قرار المجمع الفقهي بشأن موضوع إسقاط الجنين المشوه خلقيا.... ومن قبل أصحاب السعادة الأطباء المختصين، الذين حضروا لهذا الغرض، قرر بالأكثرية ما يلي: إذا كان الحمل قد بلغ مائة وعشرين يوما لا يجوز إسقاطه، ولو كان التشخيص الطبي يفيد أنه مشوه الخلقة، إلا إذا ثبت بتقرير لجنة طبية من الأطباء الثقات المختصين: أن بقاء الحمل فيه خطر مؤكد على حياة الأم؛ فعندئذ يجوز إسقاطه، سواء أكان مشوها أم لا؛ دفعا لأعظم الضررين.(توضیح الأحکام من بلوغ المرام:5/609)
محمدعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


