| 84956 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا میرے انتقال کے بعد میرے وارث ، میرے مذکورہ پوتوں سے میراث میں کسی قسم کے حصے کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ اپنے انتقال کے وقت جوکچھ اپنی ذاتی ملکیت سے چھوڑجائیں گی، وہ سب آپ کی وفات کے وقت آپ کے زندہ ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق بطورِ ترکہ تقسیم ہوگا،اوراس شرعی حق سے آپ انہیں کسی طریقے سے محروم نہیں کر سکتیں،البتہ اگر آپ مرضِ موت سے پہلے ان دیگرورثہ کو محروم کیے بغیراپنی ملکیت سے کچھ مال اپنے پوتوں
کو ہبہ کر کے قبضہ کروادیں، تو آپ کے دیگر ورثہ کو اس کے مطالبے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:6/ 758):
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ،ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل، والعلم بجهة إرثه.
احسن الفتاویٰ ،ایچ ایم سعید کمپنی(9/311):
قال الامام طاهر بن عبد الرشيد البخارى رحمه الله تعالى : وفي الفتاوى: رجل له ابن وبنت اراد ان يهب
لهما شيئا فالافضل ان يجعل لِلذَّكَرِ مِثْل حَظِّ الأنثيين عند محمد رحمه الله تعالی، وعند ابي يوسف رحمه الله تعالى بينهما سواء ،هو المختار لورود الآثار.ولو وهب جميع ماله لا بنه جاز في القضاء وهو أثم ،ثم نص عن محمدر حمد الله تعالى هكذا فى العيون ، ولو اعطى بعض ولد شيئادون البعض لزيادة رشده لا
بأس به، وان كانا سواء لا ينبغى ان يفضل .(خلاصة الفتاوى 4/400)
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/ربیع الثانی/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


