| 85001 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
آن لائن سونا خریدنا کیسا ہے؟ مثلا میں نے سونا خریدا اور پیسے اس کو دیدیے اور سونا اسی کے پاس رکھا ہے، پھر اسی سونے کو فروخت کر دے، اس پر جو نفع آتا ہے وہ بھی میرے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے اور اگر نقصان ہو تو بھی میرے اکاؤنٹ سے کٹوتی ہوتی ہے، دراصل وہ سونا ہمیں نہیں دیتے، بلکہ صرف ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں سونے پر قبضہ نہ دینے اور صرف ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سونا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سونے کی حقیقی خریدوفروخت نہیں کی جاتی، بلکہ صرف سکرین پر موجود سونے کا ریٹ بڑھنے یا کم ہونے پر قیمت کا فرق برابر کیا جاتا ہے،اسی فرق کو نفع اور نقصان تصور کیا جاتا ہے، جیسا کہ فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading) میں ہوتا ہے، لہذا اس میں جوا، سٹہ اور قبضہ کیے بغیر چیزکوآگے بیچنے کی خرابیاں پائی جاتی ہیں، اس لیے یہ خریدوفروخت شرعاً جائز نہیں اور اس پر حاصل شدہ نفع بھی جائز نہیں، بلکہ اس کوبلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 233):
نص محمد رحمه الله على عدم جوازه قبل القبض مطلقا كذا في بيوع الذخيرة.
الاختيار لتعليل المختار - (ج 1 / ص 14):
ومن باع سلعةً بثمن سلمه أولاً، إلا أن يكون مؤجلاً؛ وإن باع سلعةً بسلعة أو ثمناً بثمن سلما معا، ولا يجوز بيع المنقول قبل القبض.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 554) دار الكتاب الإسلامي:
( وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين )؛ لما روى ابن عمر رضي الله عنهما {أن النبي صلى الله عليه وسلم سبق بالخيل وراهن } ومعنى شرط الجعل من الجانبين أن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا وهو قمار فلا يجوز ؛ لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحدة منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
13/ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


