03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ کاروبار میں نفع نقصان کی تقسیم
85026شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میرا ایک دوست پراپرٹی کا کام کرتا ہے، گھر بنا کر بیچتا ہے ۔ اس نے مجھے کہا کہ میرے پراجیکٹ میں انوسٹمنٹ کرو ، جب گھر سیل ہو جائے گا تو 5% پرافٹ میں سے حصہ دوں گا ۔یعنی  اگر 3 لاکھ ہیں تو 15 ہزار منافع ملے گا کیا یہ جائز ہے ؟اس میں  وقت کی کوئی قید نہیں ہے ،چاہے گھر بیچنے میں ایک سال لگے یا ایک مہینہ لگ جائے۔

تنقیح: مستفتی سے پوچھنےپر معلوم ہوا کہ تین لاکھ انویسٹمنٹ ہے ،اس انویسٹمنٹ کا 5پرسنٹ منافع ملے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کاروبار کا مذکورہ طریقہ درست نہیں ۔ایک شریک کےلیے متعین نفع  کی شرط لگانا یا سرمائے  کے فیصد کے حساب سے نفع تقسیم کرنا   جائز نہیں ۔ منافع کے فیصد کے حساب سے نفع طے کر نا شرعا لازم ہےاور نقصان میں ہر شخص اپنے سرمائے کے بقدر شریک ہوگا۔

اس معاملے  کے جواز کی صورت یہ ہے کہ آپ کا دوست اس پروجیکٹ میں  اپنےسرمائے کا اورآپ  سے لی گئی رقم کا  حساب لگائے اور  ان کا   فیصدی تناسب متعین کرے۔پھر خدانخواستہ نقصان ہو  تو وہ نقصان اسی تناسب سے ہر فریق پر تقسیم ہوگا، البتہ نفع کی تقسیم کا ضابطہ یہ ہےکہ  نفع کی شرح باہمی رضامندی سے کچھ بھی طےکر سکتے ہیں، لیکن اگر  کاروبار صرف آپ کا دوست سنبھال رہا ہے اور یہ  طے ہوا ہے کہ آپ کام نہیں کریں گے،تو  آپ  کےلیے اپنے   سرمایہ  کی شرح سے زائد کی شرط لگانا جائز نہیں ہے،جبکہ آپ کے دوست کے نفع کی شرح اس  کے سرمائے کی شرح سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(6/ 62):

‌إذا ‌شرطا ‌الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال

الموسوعة الفقهية الكويتية (26/ 45):

وهذا الشرط موضع وفاق. وقد حكى ابن المنذر إجماع أهل العلم على أن لا شركة مع اشتراط مقدار معين من الربح - كمائة - لأحد الشريكين سواء اقتصر على اشتراط هذا المقدار المعين لأحدهما، أم جعل زيادة على النسبة المشروطة له من الربح، أم انتقص من هذه النسبة؛ لأن ذلك في الأحوال كلها قد يفضي إلى اختصاص أحدهما بالربح، وهو خلاف موضوع الشركة، أو - كما عبر الحنفية - قاطع لها

ومن هذا القبيل، ما لو شرط لأحدهما ربح عين معينة أو مبهمة من أعيان الشركة - كهذا الثوب أو أحد هذين الثوبين - أو ربح سفرة كذلك - كهذه السفرة إلى باريس، أو هي أو التي تليها إلى لندن - أو ربح هذا الشهر أو هذه السنة.

 محمد سعد ذاكر

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

15/ربیع الثانی /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب