03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شب کور( جس کو دن میں دکھائی دے اور رات میں دکھائی نہ دے) کا رات کی نمازوں میں جماعت ترک کرنے کا حکم
85006نماز کا بیانمریض کی نماز کا بیان

سوال

میں چونکہ رات کو اندھا ہو جاتا ہوں، اس لیے رات کی نمازیں مسجد میں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا صرف دن کی نماز میں ظہر و عصر ہی جماعت کے ساتھ پڑھتا ہوں، لیکن اس میں بھی میرے لیے مسئلہ  یہ ہے کہ قوت سماعت و بصارت میں خرابی کی وجہ سے مجھے پتہ نہیں چلتا کہ کب امام صاحب اگلے رکن میں گئے ہیں۔ بتایے مجھ جیسے معذور نمازی کسی طرح جماعت کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہے۔ فوری جواب دیں شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب کے درجہ میں ہے، معتبر عذر کے بغیر نماز  باجماعت چھوڑنا جائز نہیں اور چھوڑنے والا گنہگار ہوگا،لہذا جتنی کوشش ہوسکتی ہے  کوشش کرے کہ تمام نمازیں باجماعت پڑھی جائے ،ایک نماز باجماعت پڑھنے کا ثواب انفرادی طور پر نماز  پڑھنے سے  ستائیس گنا  زیادہ ہے ،عشاء  اور فجر کی نماز باجماعت پڑھنے سے پوری رات کی عبادت کے برابر ثواب ملتاہے،لیکن کوشش کے باوجود بھی رات کی نماز یں باجماعت پڑھنے میں شب کوری کی وجہ سے مسائل اورمشکلات پیداہوتے ہیں تو اس صورت میں  صرف رات کی نمازیں گھر میں انفرادی طور پر پڑھنے میں شرعا  گنجائش ہے۔

حوالہ جات

فقه العبادات على المذهب الحنفي (ص: 110، بترقيم الشاملة آليا):

حكم صلاة الجماعة:

هي سنة عينية مؤكدة في قوة الواجب على الرجال الأحرار غير المعذورين في أداء المكتوبة على أصح الأقوال. وقال بعض المشايخ الحنفية إنها واجبة مطلقاً، وقال الكرخي والطحاوي إنها فرض كفاية. وذلك لقوله تعالى: {وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة، فلتقم طائفة منهم معك} (1) ، ولما روي عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد ناساً في بعض الصلوات فقال: (لقد هممت أن آمر رجلاً يصلي بالناس، ثم أخالف إلى رجال يتخلفون عنها فآمر بهم فليحرقوا عليهم الحطب في بيوتهم. ولو علم أحدهم أنه يجد عظماً سميناً لشهدها)

فقه العبادات على المذهب الحنفي (ص: 110، بترقيم الشاملة آليا):

حكم ترك صلاة الجماعة في أداء المكتوبة:

أ - بالنسبة للفرد: إن تركها بغير عذر واعتاد تركها يأثم.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (2/ 1188):

 المرض الذي يشق معه الحضور كمشقة المطر، وإن لم يبلغ حداً يسقط القيام في الفرض، بخلاف المرض الخفيف كصداع يسير وحمى خفيفة فليس بعذر... فلا تجب الجماعة على مريض ومقعد وزمِن ومقطوع يد ورجل من خلاف أو رجل فقط، ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى وإن وجد قائداً في رأي الحنفية، ولا يعذر حينئذ عند الحنابلة والمالكية والشافعية في ترك الجمعة دون الجماعة كما سيأتي...وخلاصة ما يسقط به حضور الجماعة عند الحنفية: واحد من ثمانية عشر أمرا: مطر، وبرد، وخوف، وظلمة، وحبس، وعمى، وفلج، وقطع يد ورجل، وسقام، وإقعاد، ووحل، وزمانة، وشيخوخة، وتكرار فقه بجماعة تفوته، وحضور طعام تتوقه نفسه، وإرادة سفر، وقيامه بمريض، وشدة ريح ليلا لا نهارا. وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها المبيحة للتخلف يحصل له ثوابها.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

16/ ربیع الثانی /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب