03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں تمہیں طلاق دے دوں گا
85139طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک شوہر اور بیوی کے درمیان کسی بات پر اختلاف یا معمولی بات پر جھگڑا ہوجائے، جیسے کہ شوہر نے بیوی سے کوئی کام کہا اور وہ اسے بھول گئی، تو اس بنیاد پر ان کے درمیان تکرار ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں شوہر بار بار اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو؟ یا تم طلاق کی خواہش رکھتی ہو؟ اور کبھی یہ بھی کہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ بعض اوقات وہ لوگوں کے سامنے اسے گالیاں بھی دینے لگتا ہے، برائے مہربانی اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ گالی دینا بہت بُری عادت اور گناہ کی بات ہے، جسے گالی دی جائے اس کی عزتِ نفس بھی مجروح ہوتی ہے، اس کی ایذا کا سبب بھی ہوتاہے، جو کہ حرام ہے۔ اور لڑائی جھگڑے کے موقع پر گالی دینے کو حدیث میں منافق کی علامات میں سے  قرار دیاگیاہے۔ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ مومن کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔لہذا شوہر کا گالم گلوچ کرنا اچھا نہیں ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اس پر توبہ واستغفار کرے اور بیوی سے معافی مانگے۔با قی شوہر کا اپنی بیوی سے بار بار اس کی چاہت معلوم کرتے ہوئے یہ کہنا کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو یا تم طلاق کی خواہش رکھتی ہو  یا یہ کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا ، تو محض ان الفاظ کے بولنے سے بیوی پر کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوتی، بشرطیکہ ان الفاظ کے علاوہ کوئی لفظ یا جملہ ایقاعِ طلاق کا نہ بولاہو۔

حوالہ جات

سألت أبا وائل عن المرجئة فقال: حدثني عبد الله: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سباب المسلم فسوق وقتاله كفر.

‌‌صحیح البخاری:كتاب الإيمان، ‌‌باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر، ج: 1، ص: 152، رقم: 48(

عن ‌عبد الله بن عمرو، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن، كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر.(‌‌صحیح البخاری: كتاب الإيمان، ‌‌باب علامة المنافق، ج: 1، ص: 144، رقم: 34 (

وليس منه أطلقك بصيغة المضارع .(البحر الرائق: 3/271)

أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا .(ردالمحتار :3/669)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

22  ٖربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب