03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم کے بغیرمشترک چیز کا ہبہ کا حکم
85149ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

  اکرام الحق نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا ایک حصہ اپنی اولاد میں اس طرح تقسیم کیا کہ اپنے بیٹوں کو ایک بڑا سیب کا باغ، چند رہائشی مکانات، ایک پانی کا کنواں، اور کچھ خالی زمین دے دی۔ اپنی بیٹیوں کے لیے تقریباً تین ایکڑ پر مشتمل سیب کا باغ مختص کیا، جس کا حاصل وہ ہر سال اپنی بیٹیوں میں تقسیم کرتے تھے۔ اکرام الحق مرحوم نے اپنی جائیداد کا ایک حصہ اپنے لیے رکھا، جس میں انگور کا ایک باغ، اپنی رہائش گاہ، اور کچھ زمین کے ٹکڑے شامل تھے۔ بعد میں اکرام الحق نے اپنی جائیداد کا وہ حصہ جو اپنے لیے رکھا تھا، اپنے ایک بیٹے محمد طارق کو دے دیایعنی حکومتی ریکارڈ میں بھی اس حصے کو محمد طارق کے نام کر دیا۔

بعد میں جب اکرام الحق کا انتقال ہوگیا تو تمام اولاد نے دعویٰ کیا کہ اس حصے میں ہمارا شرعی حق ہے۔ جب یہ مسئلہ بن گیا تو محمد طارق نے مختلف دارالافتا سے فتوے حاصل کرلیے، اور یہ مسئلہ عدالت تک پہنچ گیا۔ بعد میں بعض بھائیوں نے عدالت میں راضی نامہ جمع کروا کر مقدمہ واپس لے لیا۔

اکرام الحق کی زمینیں اور بھی ہیں، جنہیں شاملات بھی کہا جاتا ہے۔ ایک زمین جس میں چند خاندان شریک ہیں، اور دوسری زمین جس میں تقریباً گاؤں کے سارے باشندے شریک ہیں۔ان میں  اول الذکر زمین میں اکرام الحق کا جو حصہ ہے، وہ ساڑھے سات مازیگر ہے۔ یہ حصہ حکومتی ریکارڈ میں بھی اکرام الحق کے نام پر ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ ایک مازیگر میں کتنے ایکڑ ہوتے ہیں؛ یہ تب پتہ چلے گا جب پوری زمین کی تقسیم ہو جائے گی۔ یہ زمین ابھی تقسیم ہونے والی ہے۔ محمد طارق نے اس حصے میں سے تقریباً چھ مازیگر فروخت کر دیے ہیں۔ جب بھائیوں کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس شاملات میں ہم سب بہن بھائی شریک ہیں۔ لیکن محمد طارق نے کہا کہ والد صاحب نے چونکہ باقی ساری جائیداد مجھے دی ہے، اس لیے تمہارا اس میں کوئی حق نہیں بنتا۔ اور بھائیوں نے راضی نامے پر دستخط کرکے مجھے اختیار دے دیا تھا کہ آئندہ ہم کوئی مطالبہ یا شفعہ کا دعویٰ نہیں کریں گے۔ جبکہ بھائیوں کا کہنا ہے کہ دستخط صرف اس جائیداد کے متعلق تھے جو والد مرحوم کے تصرف میں تھی، شاملات کے متعلق نہیں۔ واضح رہے کہ سب اولاد نے دستخط نہیں کیے، کچھ نے کیے ہیں، اور راضی نامے کے بدلے میں کچھ بھی نہیں لیا۔

ایک عالم دین نے بتایا ہے کہ غیر تقسیم شدہ زمینوں میں تمام اولاد شریک ہوتی ہے، کیونکہ زندگی میں اپنی اولاد کو جائیداد سے کچھ دینا شریعت میں "ہبہ" کہلاتا ہے، اور اس میں قبضہ شرط ہے۔ یہاں یہ زمینیں مشاع (غیر تقسیم شدہ) ہیں، اور صرف حکومتی ریکارڈ میں نام کروانے سے مالک نہیں بن سکتے۔ ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ اس غیر تقسیم شدہ زمین میں اکرام الحق کا حصہ ساڑھے سات مازیگر ہے، لیکن یہ زمین کہاں واقع ہے، یہ معلوم نہیں۔ لہٰذا یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا، اور زمین بدستور اکرام الحق کی ملکیت میں ہے، اور اس میں میراث جاری کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اکرام الحق نے اپنی جائیداد کا جو حصہ اپنے لیے رکھا تھا، وہ تمام محمد طارق کے نام کر دیاتھا۔ اس میں جائیداد کا وہ حصہ جو مرحوم کے تصرف میں تھا، رہائشی مکان، انگور کا باغ، اور خالی زمین (جس پر مرحوم زندگی میں کاشت کرتے تھے)، شاملات وغیرہ شامل ہیں۔ بھائیوں کا کہنا ہے کہ جب ہم نے راضی نامے پر دستخط کیے تھے تو اس وقت شاملات کی بات نہیں ہوئی تھی، نہ ہی تقسیم کی بات ہوئی تھی، اس لیے اب ہم ان میں اپنے حق کے دعویدار ہیں۔

اب چند حل طلب سوالات ہیں، علمائے کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ ان کا جواب فراہم کریں:

١۔ کیا ان دو زمینوں میں تمام اولاد شریک ہیں، یا صرف محمد طارق کا حق ہے؟

۲۔  جس رہائشی مکان میں اکرام الحق اپنی زندگی کے آخری لمحات تک رہے، کیا اس میں بھی تمام اولاد شریک ہے یا وہ بھی محمد طارق کا ہوگیا؟ کیونکہ اس مکان کا قبضہ تو باقاعدہ نہیں دیا گیا، اور نہ ہی مرحوم خود اس گھر سے نکلے، بلکہ اسی میں اپنی زندگی کی آخری رات گزاری۔شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ہبہ کے صحیح ہونے کے لئے قبضہ تام شرط ہے، اور قبضہ تام تقسیم کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے جو چیز قابلِ تقسیم ہو، اس کے ہبہ کے لئے تقسیم کرکے موہوب لہ کو اس کا حصہ دینا اور قبضہ کرانا ضروری ہوتا ہے۔ بغیر تقسیم کے یوں ہی مشترکہ چیز کا ہبہ کرکے نام کردینے سے شرعاً ہبہ تام نہیں ہوتا۔

لہذامسئولہ صورت میں جن دو زمینوں اور مکان کی بات ہورہی ہے، جنہیں اکرام الحق مرحوم چھوڑ کر فوت ہوئے ہیں، یہ ان کا ترکہ ہے جس کو اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم کرنا لازم ہے۔ کیونکہ جب اکرام الحق نے یہ دو زمینیں اور مکان بغیر تقسیم کے طارق کے نام کر دیے اور تقسیم کرکے اسے اس کا حصہ الگ کرکے نہیں دیا، اور مکان میں بھی خالی کرکے ان کے حوالے نہیں کیا بلکہ آخر تک اس میں رہے، تو گویا انہوں نے میراث میں سے اپنا حصہ مشترکہ طور پر طارق کو ہبہ کیا۔ اور قابلِ تقسیم چیزوں میں اس طرح کا ہبہ کرنا چونکہ شرعاً صحیح نہیں ہوتا، لہذا یہ دو زمینیں اور مکان بدستور اکرام الحق مرحوم کی ملکیت میں رہے اور ان کی وفات کے بعد تمام وارثوں کی ملکیت بن گئے ہیں، اور صرف طارق اس کا مالک نہیں ہے۔اس لئے کہ ہبہ صحیح نہیں ہوا اور صلح ان کے بارے میں کی نہیں گئی، کیونکہ صلح میں ان کا ذکرنہیں آیا،جیسےکہ میں مذکور ہے۔ لہذا اب یہ دو زمینیں اور مکان اکرام الحق مرحوم کے تمام وارثوں میں ان کے شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوں گے، جس میں طارق کا بھی حصہ وارث ہونے کی حیثیت سے ہوگا، مگر پوری کی پوری زمینیں اور مکان طارق کے نہیں ہوں گےجیسے کہ اس کا دعوی ہے،کیونکہ ہبہ صحیح نہیں ہوا ،ہاں وہ شرعی وارث ضرورہے، لہذا ان دو زمینوں اور مکان میں وہ صرف اپنا وراثتی حصہ لے سکتاہے،جوبھی شرعاً بنتاہے۔

حوالہ جات

وفی شرح المجلة للا تاسی (۳۴۴/۳):

 ( المادة 837 ) تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض .واعلم ان المراد بالقبض الذی تتم به الهبة هو القبض الکامل ،وهو فی المنقو ل مايناسبه وفی العقار مايناسبه،فقبض مفتاح الدار قبض لها والقبض  الكامل فيما يحتمل القسمة بالقسمة  حتي يقع القبض علي الموهوب  بالاصالة  من غير ان يكون بتبعية قبض الكل وفيمالا يحتمل القسمة بتبعية الكل.

وفی المبسوط للإمام السرخسي( ١٢/٦٤):

واذا وهب الرجل للرجل نصيبا مسمى من دار غير مقسومة وسلمه اليه مشاعا او سلم اليه جميع الدار لم يجز يعني لايقع الملك للموهوب له بالقبض قبل القسمة عندنا الخ .

وفی بدائع الصنائع (  زكريا ٥/١٧٢، كراتشي ٦/١٢١):

ولو وهب منه نصف الدار وسلم اليه بتخلية الكل ثم وهب منه النصف الآخر وسلم لم تجز الهبة لان كل واحد منهما هبة المشاع وهبة المشاع فيما يقسم لاتنفذ الا بالقسمة والتسليم ويستوي فيه الجواب في هبة المشاع بين ان يكون من اجنبي او شركة شريكه.

وفیہ أیضا(٥/١٧١ زكريا)

ولنا اجماع الصحابة رضي الله عنهم فانه روي ان سيدنا علي رضي الله عنه انه قال من وهب ثلث كذا او ربع كذا لايجوز مالم يقاسم وكل ذلك بمحضر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينقل انه انكر عليهم منكر فيكون اجماعا .

وفی المنصف لابن ابي شيبة( ١٠/٥٢٠ رقم: ٣٨٩٥)

عن عمر رضي الله عنه قال ما بال احدكم ينحل ولده نحلا لايحوزها ولايقسمها ويقول ان مت فهو له وان مات رجعت الي وايم الله لاينحل احدكم ولده نحلا لايحوزها ولايقسمها فيموت الا جعلتها ميراثا لورثته. (بحوالہ بدائع الصنائع ٥/١٧١)

وفی المبسوط للسرخسي( ١٢/٦٥):

واعتمادنا في المسألة على اجماع الخلفاء الراشدين فقد روينا في اول الكتاب شرط القسمة عن ابي بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم من وهب ثلث كذا او ربع كذا لا تجوز حتى يقاسم والمعنى فيه ان شرط القبض منصوص عليه في الهبة فيراعي وجوده على اكمل الجهات التي تمكن.

الفقه الإسلامي وادلته( ٤/٦٩١):

وفي الجملة وان الخلفاء الراشدين وغيرهم اتفقوا على ان الهبة لا تجوز الا مقبوضة محوزة .

 قال الله تعالى:

 يوصيكم الله في اولادكم للذكر مثل حظ الانثيين فان كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وان كانت واحدة فلها النصف. (النساء: 12, 11)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب