03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی، تین بہنیں اور ایک بھائی کے درمیان ترکہ کی تقسیم
85174میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک عورت کاانتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک بھائی اور تین بہنیں  تھیں، اس کی زمین ایک کنال اور تین مرلے ہے، سوال یہ ہے کہ اس کا ترکہ ان میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

وضاحت:سائل نےبتایا:بہنوں کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہو چکا تھا، ابھی ایک بھائی اور ایک بیٹی حیات ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ زمین سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آدھاحصہ مرحومہ کی بیٹی کو اوربقیہ آدھا اس کے بھائی کو دے دیا جائے، اس کے مطابق سوال میں ذکر کی گئی زمین میں سے ساڑھے گیارہ مرلے مرحومہ کی بیٹی کو اور ساڑھے گیارہ اس کے بھائی کو ملیں گے۔

حوالہ جات

السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری، کراتشی:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

السراجية في الميراث (1/ 29) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:

أما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله، وجزء أبيه، وجزء جده، الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/ربیع الثانی 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب