| 85495 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرے بھائی کی شادی 2023 میں ہوئی اور نکاح میں گواہ میں خود یعنی ان کا چھوٹا بھائی اور ہمارے تایا ابو تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک دفعہ تایا ابو کے ساتھ میری بات چیت ہو رہی تھی، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتے، لیکن اُن کے اصل الفاظ یہ تھے کہ ان کے آفس میں ایک ساتھی قادیانی تھا،ایک دن اس ساتھی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے مسلمان مانتے ہیں یا نہیں؟تو انہوں نے جواب دیا کہ "اگر آپ خود کو مسلمان سمجھتے ہیں تو آپ مسلمان ہیں اور میرے لئے بھی آپ مسلمان ہیں" یہ بات انہوں نے میرے سامنے تقریباً دو سال پہلے کہی تھی۔چونکہ وہ میرے بھائی کے نکاح کے گواہ تھے اور چند ماہ پہلے ان کا انتقال بھی ہو گیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا نکاح درست ہے؟ اور ہمیں اس بارے میں کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قادیانی نبی آخر الزماں محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے دائر اسلام سے خارج ،مرتد اور زندیق ہیں، اس کےباوجودوہ دجل و فریب کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان قرار دے کر سادہ لوح مسلمانوں کے غم خوار و مدد گار بن کر ان کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں میں اپنے لیے ہم دردی کے جذبات اجاگر کرکے رفتہ رفتہ ان کے ایمان کا سودا کرتے ہیں، لہذا ان سے دوستی رکھنا یا انہیں اپنا معین و مددگار و غم خوار سمجھنا، ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کے تایا ابو کا عقیدہ یہی معلوم ہوتاہے کہ وہ قادیانی کو مسلمان نہیں مانتے ، اسی وجہ سے تو انہوں نے یہ دعوی کیا تھا (جیساکہ سوال میں مذکور ہے ) ،مگر ان کا قادیانی کے سامنے یہ کہنا کہ کہ "اگر آپ خود کو مسلمان سمجھتے ہیں تو آپ مسلمان ہیں اور میرے لئے بھی آپ مسلمان ہیں"یہ الفاظ کفریہ ہیں او ر قادیانیوں کے عقائد کے کفریہ ہونے سے واقفیت کے باوجود ایسے الفاظ کہنے سےان الفاظ کا قائل دائرہ اسلام سے نکل جاتاہے،اس لئے ایسے الفاظ سے اجتناب لازم ہے،چونکہ آپ کے تایا ابو کاانتقال ہوچکاہے جس کی وجہ سے ان الفاظ کی تحقیق ممکن نہیں ،لہذا ہم ان کے ان الفاظ کو بہتر محمل پر محمول کریں گے کہ یا تو آپ کے تایا ابو کو قادیانیوں کے عقائد کا علم نہیں تھا یا ان کے عقائد کے کفریہ ہونے کا علم نہیں تھا،اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔باقی اگر نکاح کرتے وقت دوسرے لوگ بھی موجود تھے پھر تو نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،لیکن اگر نکاح میں یہی دو گواہ موجود تھے ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا ، تو احتیاط اسی میں ہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیاجائے ۔
حوالہ جات
تفسير الجلالين (ص: 556):
ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شيء عليما (40) .
{ما كان محمد أبا أحد من رجالكم} فليس أبا زيد أي والده فلا يحرم عليه التزوج بزوجته زينب {ولكن} كان {رسول الله وخاتم النبيين} فلا يكون له ابن رجل بعده يكون نبيا وفي قراءة بفتح التاء كآلة الختم أي به ختموا {وكان الله بكل شيء عليما} منه بأن لا نبي بعده وإذا نزل السيد عيسى يحكم بشريعته.
سنن أبي داود (4/ 97):
4252 - حدثنا سليمان بن حرب، ومحمد بن عيسى، قالا: حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن ثوبان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله زوى لي الأرض» - أو قال: - " إن ربي زوى لي الأرض، فرأيت مشارقها ومغاربها، وإن ملك أمتي سيبلغ ما زوي لي منها [ص:98]، وأعطيت الكنزين الأحمر والأبيض، وإني سألت ربي لأمتي أن لا يهلكها بسنة بعامة، ولا يسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم، فيستبيح بيضتهم، وإن ربي قال لي: يا محمد، إني إذا قضيت قضاء، فإنه لا يرد، ولا أهلكهم بسنة بعامة، ولا أسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم، فيستبيح بيضتهم، ولو اجتمع عليهم من بين أقطارها - أو قال بأقطارها - حتى يكون بعضهم يهلك بعضا، وحتى يكون بعضهم يسبي بعضا، وإنما أخاف على أمتي الأئمة المضلين، وإذا وضع السيف في أمتي لم يرفع عنها إلى يوم القيامة، ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين، وحتى تعبد قبائل من أمتي الأوثان، وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون، كلهم يزعم أنه نبي، وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي، ولا تزال طائفة من أمتي على الحق - قال ابن عيسى: «ظاهرين» ثم اتفقا - لا يضرهم من خالفهم، حتى يأتي أمر الله ".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 224):
في جامع الفصولين وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 229):
(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، وعزاه في الأشباه إلى الصغرى. وفي الدرر وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر وواحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه، ثم لو نيته ذلك فمسلم وإلا لم ينفعه حمل المفتي على خلافه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 134):
ومن تكلم بها (کلمۃ الکفر)مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منه.
المبسوط للسرخسي (5/ 35):
(قال) : ولا يجوز النكاح بين مسلمين بشهادة عبدين أو كافرين أو صبيين أو معتوهين أو نساء ليس معهن رجل؛ لما قلنا فإن كان معهم شاهدان حران مسلمان جاز النكاح؛ لوجود شرطه.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 185):
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام " لا نكاح إلا بشهود ".
عطاء الر حمٰن
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
15 /جمادی الاولیٰ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عطاء الرحمن بن یوسف خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


