| 85488 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارا تعلق حنفی دیوبندی فرقے سے ہے۔ مفتی صاحب، میرے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات قرآن اور سنت کی روشنی میں عنایت فرما دیں۔ اللہ پاک آپ کو اس کا اجر عطا فرمائیں گے۔
١۔ اگر شوہر اور بیوی میں شدید نوعیت کا جھگڑا ہو جائے اور شوہر کا ہاتھ بیوی پر اٹھ جائے، جبکہ غلطی بیوی کی ہو اور شوہر نے ہر ممکن کوشش کی ہو کہ جھگڑا نہ ہو، لیکن بیوی نے جھگڑا کرنے پر مجبور کیا ہو اور اس کا اقرار بھی کرتی ہو، تو ایسے میں شوہر کس قدر ذمہ دار ہو گا؟ اور کیا ہاتھ اٹھانے پر گناہ گار ہو گا یا بیوی شوہر کو اس مقام پر لانے پر گناہ گار ہو گی؟
۲۔اس صورت حال میں بیوی اپنے بھائیوں کو بلائے اور شوہر کے علم میں لائے بغیر بغیر اجازت اپنے بھائیوں کے ساتھ چلی جائے، جبکہ بھائی بالغ اور سمجھدار ہوں، تو کیا وہ اس طرح شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی بہن کو لے جا سکتے ہیں؟
۳۔ یہ جانے بغیرکہ غلطی کس کی ہے ؟ وہ اپنی بہن کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، جبکہ شوہر کی اجازت نہ ہو؟ کیا اسلام میں یہ عمل جائز ہے؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
۴۔ اس صورت حال میں بیوی کے بھائیوں پر اسلام کی طرف سے کیا ذمہ داری ہے؟
۵۔ اور شوہر کو ناراض کر کے اپنے بھائیوں کے گھر رہنے والی بیوی کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے، جبکہ شوہر بلا بھی رہا ہو؟
قرآن اور سنت کی روشنی میں ان تمام سوالات کے جوابات کچھ تفصیل سے بیان فرمائیں۔ اللہ پاک آپ کے علم میں اضافہ فرمائیں، اور آپ کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1) اسلام میں شوہر اور بیوی کے تعلقات باہمی محبت، احترام اور صبر پر مبنی ہونے چاہییں۔ بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کا احترام کرتے ہوئے جھگڑوں سے اجتناب کرے اور شوہر کو اشتعال دلانے اورتنگ کرنےسے پرہیز کرے، کیونکہ یہ گناہ کا سبب ہے۔ دوسری طرف، شوہر کو بھی نرمی اور صبر سے کام لینا چاہیے اور غصے میں آنا نہیں چاہیے۔ شریعت کے مطابق شوہر کا بیوی پر ہاتھ اٹھانا بعض مخصوص حالات میں شرائط کے ساتھ اگرچہ جائز ہے،لیکن عمومی حالات میں یہ منع ہےاور نبی کریم ﷺ نے اسے ناپسند فرمایاہے اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے۔ اگر بیوی کا رویہ اشتعال انگیز ہو تب بھی شوہر کو صبر سے کام لینا چاہیے، کیونکہ ہاتھ اٹھانا ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور گناہ کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر حد سے تجاوز کیا جائے۔ بہرحال میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ اپنے اعمال پر غور کریں، اللہ سے معافی مانگیں، اور نرمی و افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
(2) بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر بھائیوں کے ساتھ جانا شرعاً درست نہیں، اور بھائیوں کا اپنی بہن کو بغیر اجازت لے جانا بھی غلط ہے۔ اس معاملے کو حکمت، نرمی اور شریعت کے اصولوں کے مطابق حل کرنا بہتر ہے تاکہ تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔
(3) شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھر سے باہر جانا اور بھائیوں کا اپنی بہن کو شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے پاس رکھنا دونوں ہی غلط ہیں۔ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور اس معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنا چاہئے۔
(4) بیوی کے بھائیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بہن کو شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور نہ ہی اسے اپنے پاس رکھیں۔ اگر ایسا کوئی معاملہ ہو تو انہیں شوہر کے ساتھ افہام و تفہیم سے بات کرنی چاہیے اور اس کی اجازت حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ شوہر کے حقوق کا احترام کرنا اسلام میں بہت ضروری ہے۔
(5) شوہر کی عزت کرنا اور اس کے بلاوے پر اس کے پاس واپس آنا اسلام میں بہت ضروری ہے۔ اگر بیوی شوہر کو ناراض کر کے اپنے بھائیوں کے گھر رہ رہی ہو اور شوہر اسے بلا رہا ہو، تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس صورت میں، بیوی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق فوراً اپنے شوہر کے پاس واپس آنا چاہیے اور شوہر کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
قال الله تعالی:
الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم فالصالحات قانتات حافظات للغيب بما حفظ الله واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا إن الله كان عليا كبيرا.
مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء (ص: 281 ط: قديمي):
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة
أن تسجد لزوجها. رواه الترمذي.
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
لا يجلد أحدكم امرأته ثم يجامعها في آخر اليوم.(بخاري، الصحيح، كتاب النكاح، باب ما يكره من ضرب النساء وقول الله واضربوهن أي ضربا غير مبرح( 5: 1997، رقم: 4908، بيروت، لبنان: دار ابن كثير اليمامة).
فاتقوا الله في النساء، فإنكم أخذتموهن بأمان الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، ولكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه، فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح، ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف.(مسلم، الصحيح، كتاب الحج، باب حجة النبي، 2: 889-890، رقم: 1218، بيروت: دار إحياء التراث العربي.(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي)
وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه. رواه الترمذي والدارمي.
الترغيب والترهيب للمنذري (3/ 37):
وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! أخبرني ما حق الزوج على الزوجة؟؛ فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيماً! قال: فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعاً إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع، قالت: لا جرم ولا أتزوج أبداً". رواه الطبراني.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 145):
فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا
فيما عدا ذلك.
وفی الشامیة:
ولیس لها أن تخرج بلا إذنه أصلًا". (ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:3، ص:146، ط:ایچ ایم سعید)
وفی مسند أحمد مخرجا (12/ 439):
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا باتت المرأة هاجرة فراش زوجها، باتت تلعنها الملائكة - قال ابن جعفر - حتى ترجع»
وفی السنن الكبرى للبيهقي (3/ 183):
عن قتادة، عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاثة لا تجاوز صلاتهم رءوسهم: رجل
أم قوما وهم له كارهون، وامرأة باتت وزوجها ساخط عليها، ومملوك فر من مولاه ".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


