03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غلط معلومات کی بنیاد پر لیے جانے والے فتوے کا حکم
85490جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے کچھ سوالات ہیں، جن کے جوابات آپ قرآن اور سنت کی روشنی میں عنایت فرما دیں۔

١۔اگر کوئی شخص کسی مفتی صاحب سے جھوٹے واقعات یا ایسی باتیں بیان کرے جو ہوئی نہ ہوں یا غلط بیانی سے کام لیا گیا ہو، اور مفتی صاحب نے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے کوئی فتویٰ جاری کیا ہو، تو کیا یہ فتویٰ درست تصور کیا جائے گا؟

۲۔ کیا فتویٰ جاری کرتے وقت دوسرے فریق یا اس کے بیان کو نہیں سنا جائے گا، جبکہ معاملہ شوہر اور بیوی کی طلاق کا ہو اور دو خاندانوں اور بچوں کا مسئلہ ہو؟ کیا شوہر اور بیوی دونوں کے بیانات کو سنے بغیر یکطرفہ طور پر فتویٰ جاری کیا جا سکتا ہے؟

۳۔ اس صورت میں، جب مفتی صاحب کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہوں، تو کیا یہ فتویٰ درست مانا جائے گا یا غلط؟

۴۔ہمارا مذہب کیا کہتا ہے ایسے شخص کے لیے جو مفتی صاحب کو غلط معلومات فراہم کرے اور فتویٰ کو اپنے حساب کے مطابق تبدیل کروانے کی کوشش کرے؟

محترم مفتی صاحب، ان سوالات کے جوابات عنایت فرما دیں۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1) متعلقہ فتویٰ دیکھے بغیر ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے، البتہ عمومی بات یہ ہے کہ اگر واقعۃً غلط حقائق بیان کرکے کوئی فتویٰ کسی مفتی سے لیا جائے، تو وہ معتبر نہیں ہوتا۔ اس طرح کرنے میں غلطی سائل کی ہوتی ہے، نہ کہ مفتی کی، کیونکہ مفتی تو سوال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ سوال کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔

(2) مفتی غیب نہیں جانتا، وہ اپنے پاس آئے سوال کے مطابق جواب دیتا ہے، سوال کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ اگر مفتی کو یہ محسوس ہو کہ سوال میں کوئی غلط بیانی ہے یا کوئی بات قابلِ تنقیح ہے جس کے لیے دوسرے فریق سے بات کرنا ضروری ہے، تو پھر ضروری ہے کہ دوسرے فریق سے بات کی جائے اور اس کے بعد فتویٰ صادر کیا جائے۔ تاکہ کسی فریق کوبلاوجہ ضرورنہ پہنچے ۔

(3) اگر واقعةً غلط معلومات دے کر کوئی فتویٰ لیا جائے تو اس سے اصل حکم تبدیل نہیں ہوتا۔ اصل میں حرام حرام رہتا ہے اور حلال حلال، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے والا سخت گناہگار ہوتا ہے۔

(4) جو شخص جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ اپنے مفاد کے لیے فتویٰ حاصل کرسکے، اسلامی اصولوں کے مطابق ایساشخص سخت گناہ گار،جھوٹااورشدید عذاب کامستحق ہوتاہے۔

حوالہ جات

وفی مشکاة المصابیح:

وعن أبی ہریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أفتی بغیر علم کان إثمہ علی من أفتاہ ومن أشار علی أخیہ بأمر یعلم أن الرشد فی غیرہ فقد خانہ . رواہ أبو داود(مشکاة المصابیح)

وفی مرقاة المفاتیح:

کل جاہل سأل عالما عن مسألة فأفتاہ العالم بجواب باطل، فعمل السائل بہا ولم یعلم بطلانہ فإثمہ علی المفتی إن قصر فی اجتہادہ.( مرقاة المفاتیح:1/ 318، رقم:242، کتاب العلم)

وفی مسند أحمد مخرجا (14/ 123):

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنما أنا بشر، ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، فمن قطعت له من حق أخيه قطعة، فإنما أقطع له قطعة من النار»

وفی صحيح البخاري:

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قلنا: بلى يا رسول الله، قال: " الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، وشهادة الزور، ألا وقول الزور، وشهادة الزور " فما زال يقولها، حتى قلت: لا يسكت. (صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب: عقوق الوالدين من الكبائر، ج:2، ص: 884)

وفیہ ٲیضا:

حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان ". (صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1، ص:10)

وفی الدر المختار مع ردالمحتار:

الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام قال: وهو الحق قال تعالى – (قتل الخراصون) [الذاريات: 10]- الكل من المجتبى وفي الوهبانية  (الدر المختار مع ردالمحتار، كتاب الحظر والإباحة فصل في البيع، فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس، ج:6، ص:427).

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/4/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب