| 85683 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
ایک دوائی کی کمپنی ہے جو اپنے ملازم کو رکھنے سے پہلے اسی ہزار نقد لیتی ہے ۔پھر ان پیسوں کے بدلے میں انہیں دوائی دی جاتی ہے، چاہے خود استعمال کرے یا کسی اور کودے اور اسکی تنخواہ اس شرط پر تین ماہ بعد ملےگی جب تک وہ چار بندوں کو نہ لائے اس ملازمت میں۔ پھر ان چارکو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اسی ہزار جمع کرنا دوائی لینا ۔اسی طرح وہ بھی چار بندے لے کر آئیں گے تب انکی تنخواہ ملےگی اسی طرح وہ چار میں سے ہر ایک اپنے لیے چار بندے لے کر آئیں گے اسی طرح سلسلہ چلتاہے اوپر والے کی تنخواہ بڑھتی ہے ،اس کمپنی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ صورت ملٹی لیول مارکیٹنگ (multilevel marketing) ہی کی ایک شکل ہےاور ملٹی لیول مارکیٹنگ میں کام کرنا درج ذیل وجوہ کی بنا پر نا جائز ہے :
۱۔ بغیر محنت اور سرمایہ کے کمیشن کا مستحق ٹھہرنا
مروجہ مارکیٹنگ میں ابتدائی ممبرز کو آگے کے مراحل میں کمیشن دیا جاتا ہے ، جبکہ نہ تو اس نے سرمایہ کاری کی ہوتی ہے اور نہ ہی ان مراحل میں اس کی محنت شامل ہوتی ہے ۔
ممبر شپ فیس کو سرمایہ کاری اس لیے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ قانونی طور پر ممبر کو اس کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہوتا ۔
۲۔ایک معاملہ کو دوسرے معاملے کے ساتھ مشروط کرنا
اس میں خرید و فروخت کے معاملہ کے ساتھ اجارہ (یعنی ایجنٹ بننے کی ملازمت) مشروط ہے ، جس کو حدیث شریف میں ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔
۳۔قمار (جوا ، سٹہ بازی)
کمپنی کی پروڈکٹ خرید کر اس کا ممبر بننے والا شخص اس بنیاد پر پیسے لگا تا ہے کہ وہ مزید لوگوں کو اس کمپنی کا ممبر بنائے گا ، تو اس کو لگائی ہوئی رقم کے ساتھ نفع بھی ہوگا اور اگر وہ ممبر نہ بنا سکا تو یہ رقم بھی ضائع ہو جائے گی ، جو کہ جوا کی شکل ہے اور ممنوع ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی شرعی اور اقتصادی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ کئی مفاسد کی بنا پر مروجہ کمپنی ( نیٹ ورک ، ملٹی لیول مارکیٹنگ) میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے ، اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
حوالہ جات
قال العلامة السرخسی رحمه الله: وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد. (المبسوط :15/102)
قال العلامة الزیلعی رحمه الله: وهو قمار فلا يجوز لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة، وينقص أخرى. (تبیین الحقائق : 6/227)
قال العلامة الزیلعي رحمه الله: (يفسد الإجارة الشروط) لأنها بمنزلة البيع. ألا ترى أنها تقال وتفسخ فتفسدها الشروط التي لا يقتضيها العقد كالبيع.(تبیین الحقائق : 5/121)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
30 جمادى الأولى، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


