| 85436 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے مجھے آٹھ لاکھ روپے دیے کہ آپ ا سے اپنے کام میں چلادو اور جو منافع ہوگادونوں کے درمیان آدھا ہوگا۔ میں نے اس رقم سے پنجاب میں کرائے کا ہوٹل کھول دیا اور ضروری سامان مثلا: ڈیکوریشن، ٹیبل اور کرسی وغیرہ خریدا، دو سال میں جو منافع ہوا زید کو اس کے حصہ کا نفع بھی ادا کیا، اب صرف سامان کی شکل میں راس المال بچا، چونکہ ہم آپس میں جدا ہونا چاہ رہے ہیں، مزید ایک ساتھ کاروبار کرنا نہیں چاہتے تو میں چاہتا ہوں کہ زید کو وہی رقم، یعنی آٹھ لاکھ روپے واپس کروں جس کو اس نے رأس المال کے طور پر مجھے دیا تھا اور سامان اپنے پاس رکھ لوں اور کاروبارمیرا ہو جائے، جبکہ زیدکی خواہش ہےکہ اس جگہ کووہ سنبھالےاوروہ خودیہ کاروبار آگےبڑھائے۔
اب پوچھنا یہ ہےکہ اس معاملے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا جدا ہوتے وقت کرایہ کا ٹھکانہ ، جس پر محنت کر کے میں نےمشہورکیا، وہ زید کا حق بنتا ہے یا اس کو صرف اس کی رقم حوالہ کی جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عقدِمضاربت میں مضارب کاحق صرف حقیقی نفع میں فیصدی حصے تک محدود ہوتاہے، اس کےعلاوہ ساراکاروبارخواہ رقم کی شکل میں ہویاسامان وغیرہ ہووہ رب المال کی ملکیت شمارہوتاہے۔ سوال میں مذکوردو سال میں جو نفع ہواآپ اسی میں اپنےحصےکےمستحق ہیں، باقی ہوٹل چونکہ زید کےدیےگئےسرمایہ سےہی آپ نےکھولاتھا، لہذایہ ہوٹل اوراس میں موجودسارا سامان اسی کا ہے، نیز اس میں مزیدکام کرنےکاشرعًازیدہی حقدارہے۔ ہاں اگرزیداپنی مرضی سےآپ کوہوٹل اورسامان حوالہ کردیتاہےتویہ بھی درست ہے۔
حوالہ جات
قال العلامةالكاساني رحمه الله تعالى: والثاني، ما يستحقه المضارب بعمله في المضاربة الصحيحة وهو الربح المسمى إن كان في المضاربة ربح، وإنما يظهر الربح بالقسمة وشرط جواز القسمة قبض رأس المال، فلا تصح قسمة الربح قبل قبض رأس المال. (بدائع الصنائع: 6/ 107)
قال العلامةنظام الدين ومن معه رحمهم الله تعالى: الأصل أن قسمة الربح قبل قبض رب المال رأس ماله موقوفة، إن قبض رأس المال صحت القسمة، وإن لم يقبض بطلت، كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: 4/ 321)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
6 جمادی الاولی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


