| 85273 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام درج ذیل دو مسئلوں کے بارے میں کہ:
1) خواتین کے لیے چاکی کپڑے پہنا جائز ہے یا نہیں (ایسالباس جس کی قمیص چورس دامن والی یعنی سائیڈ سے چاک ہو) جیسا کہ مردوں کا کرتہ ہوتا ہے ، جبکہ ہمارے علاقہ بلوچستان میں عام طور پر دیہات میں خواتین گول قمیص والالباس پہنتی ہیں، جو دونوں سائیڈ سے بند ہوتی ہے، لیکن اس میں یہ خامی ہے کہ آج کل عورتیں وہ پرانے زمانےکی خواتین کےلباس کی طرح بہت کشادہ گول نہیں بناتیں تو ایسےمیں کبھی کبھار خیال نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھنے میں ان کا پیٹ نظر آرہاہوتا ہے۔
اسی طرح پر چاکی لباس کی خامی یہ ہے کہ دامن کو بڑا چاک دیتی ہیں اور شلوار تنگ بناتی ہیں، جس کی وجہ سےبیٹھنے میں اور ہوا آنے کی صورت میں دامن اڑھنےسےنچلےحصےکاجسم چست ہونے کی وجہ سےاس کا خدو خال اور نشوونما واضح طورپرنظر آتا ہے ۔
اوراگرچاکی لباس اس طرح بنائے کہ اس کی قمیص کا چاک بڑا نہ ہو اور شلوار تنگ نہ ہو، بلکہ کشادہ بنائیں تواس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیااس میں مردوں کے کپڑوں کے ساتھ مشابہت تو نہیں ہوتی، جبکہ مردوں کے کپڑے بھی کرتہ دار اور یہ بھی کرتہ دار ہے؟
2) کیا خواتین اپنے بالوں کی اگر پیچھےکی طرف چٹیا بنانے کے بجائے جوڑابناکر پیچھے باندھ لیں اور یہ عذرپیش کریں کہ ہم گرمی کی وجہ سے اس طرح کرتے ہیں، کیا ان کےلیےاس طرح کرنا جائز ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام درج ذیل دو مسئلوں کے بارے میں کہ:
1) خواتین کے لیے چاکی کپڑے پہنا جائز ہے یا نہیں (ایسالباس جس کی قمیص چورس دامن والی یعنی سائیڈ سے چاک ہو) جیسا کہ مردوں کا کرتہ ہوتا ہے ، جبکہ ہمارے علاقہ بلوچستان میں عام طور پر دیہات میں خواتین گول قمیص والالباس پہنتی ہیں، جو دونوں سائیڈ سے بند ہوتی ہے، لیکن اس میں یہ خامی ہے کہ آج کل عورتیں وہ پرانے زمانےکی خواتین کےلباس کی طرح بہت کشادہ گول نہیں بناتیں تو ایسےمیں کبھی کبھار خیال نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھنے میں ان کا پیٹ نظر آرہاہوتا ہے۔
اسی طرح پر چاکی لباس کی خامی یہ ہے کہ دامن کو بڑا چاک دیتی ہیں اور شلوار تنگ بناتی ہیں، جس کی وجہ سےبیٹھنے میں اور ہوا آنے کی صورت میں دامن اڑھنےسےنچلےحصےکاجسم چست ہونے کی وجہ سےاس کا خدو خال اور نشوونما واضح طورپرنظر آتا ہے ۔
اوراگرچاکی لباس اس طرح بنائے کہ اس کی قمیص کا چاک بڑا نہ ہو اور شلوار تنگ نہ ہو، بلکہ کشادہ بنائیں تواس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیااس میں مردوں کے کپڑوں کے ساتھ مشابہت تو نہیں ہوتی، جبکہ مردوں کے کپڑے بھی کرتہ دار اور یہ بھی کرتہ دار ہے؟
2) کیا خواتین اپنے بالوں کی اگر پیچھےکی طرف چٹیا بنانے کے بجائے جوڑابناکر پیچھے باندھ لیں اور یہ عذرپیش کریں کہ ہم گرمی کی وجہ سے اس طرح کرتے ہیں، کیا ان کےلیےاس طرح کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1) شریعت نےعورت کوکسی خاص قسم کےلباس پہننےکاپابند نہیں بنایا ہے، البتہ اصولی طور پرلباس اس طرح ہونا ضروری ہے کہ:
- وہ اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو جس سےجسم کےجن اعضاءکا چھپانا واجب ہے وہ یا ان کی ساخت ظاہر ہوجائے۔
- لباس میں مرد عورتوں کی اور عورت مردوں کی مشابہت اختیار نہ کرے۔
- کفار اور فساق کی مشابہت نہ ہو۔
گول دامن والی یا چاک والی قمیص کاتعلق علاقےکےرسم ورواج سےہے، لہذا مذکورہ بالا شرائط کالحاظ رکھتے ہوئے دونوں جائزہیں۔ رہا مردوں سےمشابہت کی بات تو عمومًا مردوں کےکپڑوں کارنگ، سلائی اور انداز عورتوں کے کپڑوں سےبالکل مختلف ہوتاہے، اس لیےصرف کرتاہونےسے وہ مردانہ لباس نہیں لگتا۔ تاہم جہاں بالکل ایک جیساہو تو اس سے بچنابہرحال لازم ہے۔
2) خواتین کےلیے سرکےبالوں کی گدی کی طرف دو چوٹیاں اور جوڑا بنانا دونوں جائز ہیں، شرط یہ ہے کہ نامحرموں کےسامنے اس کاظہار نہ کیا جائے اور نہ ہی اس سے غیر اقوام اور فاسقہ عورتوں کی مشابہت کا قصد ہو۔ جوڑا بنانے میں مزیدتفصیل یہ ہے کہ جوڑا گدی پر باندھاجائے، سامنے کی طرف جوڑا باندھ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح بالکل سر کے اوپر جوڑا باندھنا ناجائز اور گناہ ہے، حدیثِ مبارک میں اس پر وعید وارد ہوئی ہے کہ ایسی عورت کو جنت کی خوشبو بھی نصیب نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري في "صحيحه" من حديث ابن عباس رضي الله عنهما قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال».(7/ 159، الحديث رقم: 5885)
قال الحافظ ابن حجررحمه الله تعالى: قوله: (لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين) قال الطبري: المعنى لا يجوز للرجال التشبه بالنساء في اللباس والزينة التي تختص بالنساء ولا العكس. قلت: وكذا في الكلام والمشي، فأما هيئة اللباس فتختلف باختلاف عادة كل بلد، فرب قوم لا يفترق زي نسائهم من رجالهم في اللبس، لكن يمتاز النساء بالاحتجاب والاستتار، وأما ذم التشبه بالكلام والمشي فمختص بمن تعمد ذلك، وأما من كان ذلك من أصل خلقته فإنما يؤمر بتكلف تركه والإدمان على ذلك بالتدريج، فإن لم يفعل وتمادى دخله الذم، ولا سيما إن بدا منه ما يدل على الرضا به، وأخذ هذا واضح من لفظ المتشبهين. (فتح الباري: 10/ 332)
وأخرج الإمام مسلم في "صحيحه" من حديث أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات، مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا». (6/168، الحديث رقم: 2128)
وقال العلامة النووي رحمه الله تعالى: وأما رؤوسهن كأسنمة البخت فمعناه يعظمن رؤوسهن بالخمر والعمائم وغيرها مما يلف على الرأس حتى تشبه أسنمة الإبل البخت هذا هو المشهور في تفسيره قال المازري ويجوز أن يكون معناه يطمحن إلى الرجال ولا يغضضن عنهم ولا ينكسن رؤوسهن واختار القاضي أن المائلات تمشطن المشطة الميلاء قال وهي ضفر الغدائر وشدها إلى فوق وجمعها في وسط الرأس فتصير كأسنمة البخت قال وهذا يدل على أن المراد بالتشبيه بأسنمة البخت إنما هو لارتفاع الغدائر فوق رؤوسهن وجمع عقائصها هناك وتكثرها بما يضفرنه حتى تميل إلى ناحية من جوانب الرأس كما يميل السنام.(شرح مسلم : 17/ 191)
وقال القاضي عياض رحمه الله تعالى: وقوله: " رؤوسهن كأسنمة البخت ": معناه: أى يعظمن رؤوسهن بالخمر والعمائم حتى يشبه أسنمة البخت، ويجوز أن يكون معناه: أنهن يطمحن إلى الرجال كأسنمة البخت. معناه: أنه يقطمن رؤوسهن ولا ينكشن رؤوسهن. قال القاضى: الرواية فى الحديث كما ذكر: " المايلة " بياء بثنتين من أسفل. وقال الكسائى: صوابه: " الماثلة " بثاء المثلثة: أى قائمة، لما كان الأمر عنده فى التفسير على تعظيم رؤوسهن. والصواب عندى ما جاءت به الرواية، وهو الذى تعضده اللغة والحديث نفسه. (إكمال المعلم بفوائد مسلم : 8/ 387)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: قوله :(وعقص شعره إلخ) أي: ضفره وفتله، والمراد به أن يجعله على هامته ويشده بصمغ، أو أن يلف ذوائبه حول رأسه، كما يفعله النساء في بعض الأوقات، أو يجمع الشعر كله من قبل القفا ويشده بخيط أو خرقة كي لا يصيب الأرض إذا سجد؛ وجميع ذلك مكروه....، ونقل في الحلية عن النووي أنها كراهة تنزيه. (رد المحتار : 1/ 642)
راز محمدبن اخترمحمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
30 ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


