03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
روزےکی حالت میں نا محرم کو چھونےسے انزال ہوجائےتو روزے کا کیاحکم ہے؟
86214روزے کا بیانروزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان

سوال

مفتی صاحب !مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوا ہے کہ میں نے رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں تقریباً دو یا تین مرتبہ نا محرم اور نابالغ بچی کے جسم اور رانوں کے ساتھ اپنی شرمگاہ کو اس انداز سے بار بار مس کیا کہ میری منی کا اخراج ہوگیا۔ اب مجھ پر ان روزوں کا کفارہ ہے یا صرف قضاء ہے؟ حالانکہ میں نے بعدمیں توبہ بھی کی اور نادم بھی رہا، لیکن آپ مجھے توبہ اور استغفار کا خاص طریقہ ، خاص کلمات ، وظائف اور اعمال بتائیں تاکہ اللہ تعالیٰ میرے سارے صغائر و کبائر معاف فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں منی نکلنے سے آپ کے روزے فاسد ہوگئے ہیں ، جتنے روزے فاسد ہوئے ہیں ان سب  کی قضا  کرنا  لازم ہے،البتہ اس صورت میں کفارہ لازم نہیں۔

       توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے  کہ بندہ اپنے  کیے  پر شرمندہ ہو  کرندامت کے ساتھ توبہ کرے اور آئندہ کے لیے گناہ سے بچنے کا پختہ عزم بھی کرے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ توبہ و استغفار  کرنے  سے اللہ تعالی بندے کے تمام گناہ معاف فرما لیتے ہیں،اگر چہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہو۔استغفار کے لیے مختصر الفاظ یہ ہیں:

أَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّأَتُوْبُ إِلَيْهِ.

البتہ استغفار کے لیے بہترین الفاظ وہ ہیں جن کو حدیث میں سید الاستغفار کہا گیا ہے:

  اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَايَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ.

     ترجمہ: اے الہٰی! تو میراپروردگار ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں  ہے،تو نے مجھ کو پیداکیااور میں تیرا بندہ ہوں اور میں  اپنے طاقت کے مطابق تیرے عہد پر ہوں اور تیرے وعدے پر ہوں ،میں پناہ مانگتا ہوں اس چیز  کی برائی سے جو میں نے کی اور میں تیری نعمتوں کا  اقرار کرتاہوں جو تیری طرف سے مجھ پر ہیں اورمیں اپنے گناہوں کا اقرار کرتاہوں، پس مجھ کو بخش دے، تیرے سواکوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔

حوالہ جات

       أخرج الامام الترمذی رحمہ اللہ تعالی عن أبي سعيد رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قال حين يأوي إلى فراشه: ‌أستغفر ‌الله ‌الذي ‌لا ‌إله ‌إلا ‌هو ‌الحي ‌القيوم، وأتوب إليه، ثلاث مرات، غفر الله له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر، وإن كانت عدد ورق الشجر، وإن كانت عدد رمل عالج، وإن كانت عدد أيام الدنيا.(سنن الترمذي:6/ 243694:)

        أخرج الامام بخاری رحمہ اللہ تعالی عن شداد بن أوس  رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم،قال: سيد الاستغفار أن تقول: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك علي، وأبوء لك بذنبي فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ، قال: و من قالها من النهار موقنًا بها، فمات من يومه قبل أن يمسي، فهو من أهل الجنة، ومن قالها من الليل وهو موقنًا بها، فمات قبل أن يصبح، فهو من أهل الجنة.)صحيح البخاري 5947:2323/5:)

        وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها...(إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ ولذا تثبت به حرمة المصاهرة...وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام.(رد المحتار :6/ 367)

         وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(أو وطئ امرأة ميتة) أو صغيرة لا تشتهى... (أو فخذا أو بطنا أو قبل) ...(أو لمس) ولو بحائل لا يمنع الحرارة ... (فأنزل) قيد للكل حتى لو لم ينزل لم يفطر كما مر... (قضى) في الصور كلها (فقط).(رد المحتار:2/ 404)

        وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(أو جامع فيما دون الفرج ولم ينزل) يعني في غير السبيلين.

        وقال العلامۃابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: أما لو أنزل قضى فقط كما سيذكره المصنف،أي بلا كفارة .(رد المحتار398/2:)

جنید صلاح الدین

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

28/جمادی الثانیہ6144ھر

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب