| 86123 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
سوال: میں نے 2012 میں دودکانیں قسطوں پر خریدیں ۔ جن کی کل قیمت تقریبا 9,000,000 ( نوے لاکھ روپے) تھی ۔ دوکان کی قسطیں تقریبا 2017 کے وسط یا آخر تک جاری رہیں ۔ 2013 سے اکتوبر 2021 تک دونوں دکانیں کرائے پر تھیں ۔ اس کے بعدکی صورتحال مرحلہ وار درج ذیل ہے۔
نمبر 01: 21 اکتوبر 2021 کو،میں نے دونوں دکانیں ایک دوست کو-/9,000,000 ( نوے لاکھ ) میں فروخت کیں،جس نے دوکانوں کےبدلے مجھے رقم کی جگہ اپنی زمین میں 30 پلاٹس(فی پلاٹ -/300,000) دیے ۔ مذکورہ معاہدہ مکمل ہونے کے فورا بعد اسی دن اُس ساتھی نے ان پلاٹس میں سے 23 پلاٹس مجھ سے 14,000,000 ( ایک کروڑ چالیس لاکھ ) میں خریدے اور پیسوں کی ادائیگی کے لئےتقریباچھ ماہ کا وقت مقرر کیا اور بقیہ سات پلاٹس اپنی جگہ موجود رہے کہ قیمت بڑھنے پر ان کو بھی فروخت کیا جائیگا۔
نمبر 02: اس کے بعد صورتحال یہ ہوئی کی چھ ماہ مکمل ہونے سے پہلے جو کہ 14,000,000 (ایک کروڑ چالیس لاکھ ) کی ادائیگی کا وقت طے ہوا تھا ، اس ساتھی نے اپنی ایک اور زمین میں مجھے 14,000,000 ( ایک کروڑ چالیس لاکھ ) اور سات پلاٹس کے بدلے مجھے33 پلاٹس دیئے (فی پلاٹ 500,000 ) ۔ یہ دوسرا معاہد ہ 02 فروری 2022 کو طے پایا۔
نمبر 03: اس کے بعد میرے پاس یہ پلاٹس 25 ستمبر 2024 تک رہے۔ 26 ستمبر 2024 میں نے پھر 33 پلاٹس کے بدلے اسی ساتھی کے ایک پروجیکٹ میں ڈھائی فلیٹ کی خریداری کا معاہدہ کیا یعنی دو کی پوری ملکیت اور ایک کی آدھی ملکیت میری ہوگی اور اس پورےسودے کی قیمت خرید -/15,000,000 ( ڈیڑھ کروڑ)روپے مقرر ہوئی ۔
اس پوری صورت حال کے تناظر میں آپ سے درخواست ہے کہ دوکانوں کی موجودگی کے وقت سے لیکر ان کی فروخت اور پلاٹس کے لین دین اور تبادلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس وقت فلیٹ کی ملکیت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام سالوں کی زکوۃ کے احکامات اورحساب سے از روئے شریعت مطلع فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
نوٹ:1۔یہ تمام پراپرٹی کی خرید وفروخت تجارت کی نیت سے ہوئی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔پراپرٹی اگر مال تجارت کے طور پر ہو تو اس کی کل مالیت پر زکوة لازم ہوتی ہے۔مال تجارت سے مراد وہ سامان ہے، جسے تجارت یعنی بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو، اور تا حال یہ نیت بر قرار ہو۔
2۔جوپراپرٹی تجارت کےلیے ہو،اور قسطوں پر لی گئی ہو،تواس کی کل قیمت فروخت پر زکوة لازم ہوتی ہے،البتہ اس کی جتنی قسطیں ابھی ادا نہیں ہوئی ہیں،باقی ہیں،وہ سب زکوة کے حساب سے منہاہوں گی،یعنی اس کی زکوة لازم نہیں ہوگی۔
3۔زکوة کی مقدار ڈھائی فیصد ہے،لہذا جو بھی رقم قیمت کے طور پرطے ہو،اس کا چالیسواں حصہ یا ڈھائی فیصد نکال لیں تو زکوة کی مقدار سامنے آجائے گی۔
ان اصول کی بنیاد پر اب زکوة کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں بھی پراپرٹی کی خریداری کے وقت تجارت کی نیت تھی اور فروخت کے وقت تک وہ نیت برقرار رہی ہےتو پھر یہ مال تجارت ہےاور اس کی کل مالیت پر زکوة لازم ہوگی۔اس رقم پر چونکہ تین ادوار گذرے ہیں،ہر دور کے مطابق رقم کی مقدار بدل جاتی ہے،اس لیے اس کی زکوة
کا حساب الگ ہوگا :
1۔ 2012 سے2021تک:
ہر سال ان دکانوں کی مارکیٹ میں جتنی قیمت ہو اس پر زکوة لازم ہوگی۔آپ نے ان دودکانوں کی قیمت 90 لاکھ لکھی ہے،اگر مارکیٹ ویلیو بھی یہی ہوتو اس تمام رقم پر زکوة ہوگی۔البتہ ہر سال میں جتنی قسطوں کی ادائیگی باقی ہو وہ زکوة کے حساب سے مستثنی ہوں گی،یعنی ان قسطوں کے بقدر رقم زکوة کے حساب میں شامل نہیں ہوگی،بقیہ تمام قیمت پر زکوة ہوگی۔نیز جتنے عرصے میں یہ دکانیں کرایہ پر تھیں تو کرایہ کی رقم اگر زکوة کے سالانہ حساب کے وقت موجود ہوتو اس میں بھی زکوة لازم ہوگی، اس لیے کہ وہ نقدی ہے،اور نقدی جب خودنصاب کو پہنچ جائے یا سونا ،چاندی،مال تجارت کے
ساتھ مل کر ساڑھے باون تولے چاند کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس پر زکوة لازم ہوتی ہے۔
2۔ 21 اکتوبر2021 تا 2فروری2022 ، اس مرحلے میں تین تبدیلیاں ہوئیں:
1۔21اکتوبر 2021ان دوپلاٹوں کو 90 لاکھ میں فروخت کیا۔اور تیس پلاٹ لیے۔
2۔23 پلاٹ ایک کروڑ چالیس میں فروخت کیے،سات پلاٹ اپنے پاس رکھے۔
3۔ایک کروڑ چالیس لاکھ اور سات پلاٹ کے بدلے 33پلاٹس لیے۔
یہ تینوں معاہدے زکوة کے حساب سے ایک سال کے اندر اندر ہوئے ہیں ،اس لیے کہ سائل کے مطابق اس کی زکوة کا سال رمضان کی ابتداء میں پورا ہوتاہے،جبکہ یہاں اس عرصے میں کوئی رمضان نہیں ہے،تو پھر اس آخری رقم پر زکوة کی ادائیگی کرنی ہوگی، یعنی 33 پلاٹس کی جو قیمت ہوگی اس پر زکوة لازم ہوگی۔یہ دوسال یعنی2022 اور 2023 میں زکوة کاحساب ہے۔
3۔ 26 ستمبر2024 کو 33 پلاٹس کے بدلے جو ڈھائی فلیٹ لیے ہیں اب زکوة کا حساب ان کی قیمت سے متعلق ہوگا،لہذا زکوة کے اعتبار سے جب سال مکمل ہو تو ان کی قیمت کو زکوة کی رقم میں شامل کرنا لازم ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع: (220/2):
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء، وقال أصحاب الظواهر: ولا زكاة فيها أصلا، وقال مالك: إذا نضت زكاها لحول واحد.
وجه قول أصحاب الظواهر أن وجوب الزكاة إنما عرف بالنص والنص ورد بوجوبها في الدراهم والدنانير والسوائم فلو وجبت في غيرها لوجبت بالقياس عليها والقياس ليس بحجة خصوصا في باب المقادير.(ولنا) ما روي عن سمرة بن جندب أنه قال: «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يأمرنا بإخراج الزكاة من الرقيق الذي كنا نعده للبيع» .
وروي عن أبي ذر - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «في البر صدقة» ، وقال - صلى الله عليه وسلم -: «هاتوا ربع عشر أموالكم» فإن قيل: الحديث ورد في نصاب الدراهم؛ لأنه قال في آخره: " من كل أربعين درهما درهم".
فالجواب أن أول الحديث عام وخصوص آخره يوجب سلب عموم أوله أو نحمل قوله من كل أربعين درهم على القيمة أي: من كل أربعين درهما من قيمتها درهم.
الدر المختار: (272/2):
"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل"
الفتاوى الهندية (1/ 175):
' ومن کان له نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالاً من جنسه، ضمه إلی ماله وزکاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا، وبأي وجه استفاد ضمه'. الخ
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
28/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


