| 86133 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:ورثہ کی تفصیلات:دادا دادی اور ہماری والدہ کا والد کی زندگی میں ہی انتقال ہوچکا ہے۔
اہلیہ (دوسری شادی)ان سے کوئی اولاد نہیں۔
تین بیٹے (جس میں دو شادی شدہ ہیں)
دو بیٹیاں ( جس میں ایک شادی شدہ ہے)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (بیوہ،تین بیٹےاوردو بیٹیوں )میں تقسیم کیاجائےگا۔
تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کی بیوہ (دوسری اہلیہ)کوکل میراث کاثمن(آٹھواں حصہ ) ملےگااورباقی میراث تین بیٹےاوردوبیٹیوں میں تقسیم ہوگی ،تین بیٹوں کو دودوحصےاوردوبیٹیوں کوایک ایک حصہ ملےگا۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتو کل میراث کا 12.5%فیصدآپ کی والدہ کوملےگا،باقی 87.5%فیصدآپ بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا،دونوں بھائیوں میں سےہرایک بھائی کو 21.875%فیصداورہربیٹی کو 10.9375%فیصد حصہ ملےگا۔
حوالہ جات
"السراجی فی المیراث "5،6 :
الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔
قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔
"سورۃ النساء" آیت 12:
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
27/جمادی الثانیہ 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


