03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ پر تحریری بلاگنگ کرکے پیسے کمانے کا حکم
87468اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میں ایک گھریلو خاتون ہوں اور فیس بک، انسٹاگرام، اور ایک ذاتی ویب سائٹ پر بلاگنگ کا کام کرتی ہوں۔ میرا کام تحریری مواد پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں میں خواتین، بچوں، والدین کی ذہنی و جذباتی صحت، تربیت اور معاشرتی مسائل پر لکھتی ہوں۔ میرے تمام بلاگز اسلامی اقدار، حیا اور اخلاقیات کے دائرے میں ہیں۔ ان میں کوئی غیر شرعی تصویر، موسیقی، بے حیائی یا فتنہ انگیز مواد شامل نہیں ہوتا ہے۔

میرے چار سوشل میڈیا اکاؤنٹس (فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ) اور ایک ذاتی ویب سائٹ ہے۔ میرا انداز یہ ہے کہ میں ایک تحریری بلاگ پوسٹ کرتی ہوں جس کے ساتھ ایک سادہ سی تصویر ہوتی ہے، جس پر موضوع (title) لکھا ہوتا ہے۔ لوگ ان بلاگز کو پسند کرتے ہیں اور واٹس ایپ و دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہیں۔

آمدنی کا طریقہ کار:

فیس بک اور انسٹاگرام ہر واٹس ایپ شیئر پر تقریباً 22 روپے اور ہر فیس بک/انسٹاگرام شیئر پر تقریباً 100 روپے ادا کرتے ہیں۔

فیس بک کا ایک فیچر "Stars" ہے، جہاں فالوورز اپنی مرضی سے اگر چاہیں تو ستارے بھیج سکتے ہیں، اور ہر اسٹار پر مجھے 79 روپے دیے جاتے ہیں۔

ان پلیٹ فارمز کے کچھ ہفتہ وار ٹارگٹس ہوتے ہیں، جیسے لائیو آنا، ریلس ( 30 سیکنڈ کی وڈیو) بنانا، وغیرہ۔ اگر یہ مکمل کیے جائیں تو زیادہ پیسے دیے جاتے ہیں، لیکن ان میں بیک گراؤنڈ میوزک شامل کرنا لازمی ہوتا ہے، اس لیے میں یہ کام نہیں کرتی۔

اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا جائے تو پلیٹ فارم وہ رقم کاٹ لیتے ہیں اور باقی رقم تفصیل کے ساتھ ادا کر دیتے ہیں۔

اضافی آمدنی کا نظام:

جتنے زیادہ لوگ میرے انسٹاگرام، فیس بک یا ویب سائٹ پر روزانہ آتے ہیں، ان کی وجہ سے میرے اکاؤنٹس کی "ریچ" بڑھتی ہے، اور جتنی زیادہ ریچ ہو، اتنے ہی زیادہ اضافی پیسے الگ سے ملتے ہیں۔

اگر کسی پوسٹ کو 5000 سے زیادہ لوگ پسند (like) کرلیں، تو اس پر بھی تقریباً 5 سے 10 ہزار روپے روزانہ تک کی آمدنی ہو سکتی ہے جب تک وہ تحریری مواد مشہور رہتا ہے پیسے ملتے رہتے ہیں۔

فیس بک ایک خاص حد، جیسے 1 ملین فالوورز کے بعد تحفے بھی بھیجتا ہے، جن میں نقد رقم اور ذاتی اشیاء بھی شامل ہوتی ہیں اور آمدنی بھی ڈبل کر دی جاتی ہے، لیکن اگر ان کے مخصوص ٹارگٹس (جن میں سرفہرست لائیو آنا اور بیک گراؤنڈ میوزک شامل ہوتا ہے) مکمل نہ کیے جائیں، تو وہ اس اضافی آمدنی میں سے رقم کاٹ لیتے ہیں۔

میرے بلاگز میں نہ ویڈیو ہوتی ہے، نہ موسیقی، اس لیے میرے مواد کے دوران کوئی ویڈیو یا آڈیو ایڈز نہیں آتے۔

  1. کیا میری سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی شرعی طور پر حلال ہے؟
  2. چونکہ فیس بک اور انسٹاگرام  امریکن کمپنیز ہیں، تو جب سے جہاد کے فرض ہو جانے کے متعلق خبریں سننے کو ملیں تو  میں فکرمند ہوگئی  کہ کیا میری یہ کمائی جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوشل میڈیا پر اپنے چینلز یا آئیڈیز کو مونیٹائز کئے بغیرصرف اپنے   انفلوئنس سے  پیسے کمانا جائز ہےچاہے یہ پیسہ لائیک یا شیئر کی وجہ سے ملتا ہو یا صارفین کا آپ کے کانٹینٹ پر "اسٹارز "دے کر اعتماد کرنے کی وجہ سے ۔ بشرطیکہ بلاگ(تحریر) کا کانٹنٹ درست ہو ،یعنی اس میں  کسی عورت کی یا کوئی ٖفحش یا غیر اخلاقی  مواد یا تصاویر نہ ہو،لائیکس ،شیئرز اور سٹارز صارفین نے اپنی مرضی سے دئیے ہوں،جعلی طور پر حاصل نہ کئے ہوں، تحریردھوکہ ،منگھڑت یا شدید ضعیف احادیث اور جھوٹی معلومات پر مشتمل نہ ہو ں،اسی طرح اگر کسی پروڈکٹ کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہوتو وہ پروڈکٹ جائز ہو۔

سوشل میڈیا اس وقت ذرائع ابلاغ کا مؤثر ترین ہتھیار ہےجس کے ذریعے ہم اپنی بات اور اپنا مدعا  پوری دنیا تک پہنچاسکتے ہیں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم  کے خلاف اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ،گویا سوشل میڈیا اب ہتھیار بن چکا ہے ،لہٰذا اس سے بائیکاٹ کی ضرورت نہیں ۔جہاں تک کمائی کی بات ہے تو کمائی درج بالا اصول کے مطابق فی نفسہ جائز ہے ،بلکہ چھوڑنے کی صورت میں اس رقم کا بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونے کا اندیشہ ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 63):

قال في التتارخانية: وفي ‌الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

المحيط البرهاني (7/ 485):

وفي «نوادر ابن سماعة» عن أبي يوسف: رجل ضلّ شيئاً، فقال: ‌من ‌دلني عليه فله درهم فدلّه إنسان فلا شيء له؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، ولو قال لإنسان بعينه: إن دللتني عليه فلك درهم، فإن دلّه من غير شيء معه فكذلك الجواب لا يستحق به الأجر وإن مشى معه ودلّه فله أجر مثله، لأن هذا عمل يقابل الأجر عرفاً وعادة إلا أنه غير مقدر ففسد العقد ووجب به أجر المثل.وفي «فتاوى أهل سمرقند» : استأجر رجلاً ليصيد له أو يحتطب له فإن كان وقّت لذلك وقتاً جاز، وإن لم يوقت ولكن عين الحطب، فالإجارة فاسدة وما اصطاد فهو للمستأجر.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 12/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب