| 87434 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میری شادی 2021 میں ندیم رشید کے ساتھ ہوئی ، اس کی پہلی بیوی سے دو سال کا ایک بیٹا بھی تھا۔ شادی کے بعد معلوم ہوا کہ کوئی کام نہیں کرتا، شروع دن سے میر اخرچہ میرے بہن بھائی برداشت کررہے تھے ، مجھے دوسرے مہینےمیکے بھیجوا دیا، بیٹے کی ولادت اور پورے نو مہینے میں نے اپنے والدین کے گھر گزارے، ولادت کے وقت پانچ منٹ کے لیے آیا تھا، پھر اس کے بعد نہ ملنے آیا اور نہ ہی کوئی خرچہ بھیجا۔ ان کے بڑوں سے صلح کے متعلق بات ہوئی، لیکن کوئی بھی اس کے معاملے میں بولنے کے لیے تیار نہیں ہوا ، ہم نے دو سال بعد 2024 میں عدالت سے خلع لے لی، عدالت میں آخری ملاقات کے لیے بلایا تھا، میں نے ملنے سے انکار کر دیا تھا،اس کے بعد عدالت نے اس کے سامنے خلع کی ڈگری جاری کی، وہ سن کر چلا گیا ، خلع کے فیصلے پر دستخط نہیں کئے۔ آٹھ مہینے بعد یونین آفس سے ہم نے ڈگری حاصل کی اور یو نین والوں سے بولا کہ آپ اس سے دستخط کر واکر دے دیں، انہوں نے فون کر کے بلا یا، لیکن بغیر دستخط کے چلا گیا۔
آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا میر ی خلع شرعی حیثیت سے صحیح ہے ؟ میں نے عدت بھی گزار دی اور ابھی تک دوسری شادی بھی نہیں کی ، اسکول میں پڑھا کر بچہ کا خرچہ اٹھار ہی ہوں۔ میرا حق مہر ایک لاکھ تھاوہ بھی نہیں دیا۔ عدالت نے بچہ کا خرچہ اور ہسپتال کا خرچہ اس کے ذمہ لگایا تھا وہ بھی نہیں دیا۔
برائے مہربانی اس شخص سے کیسے نجات ملے گی، میری رہنمائی کیجئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے ، شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے، جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسح نکاح کا اختیار جج کو صرف درج ذیل صورتوں میں حاصل ہوتا ہے :
ا۔ شوہر نامرد ہو۔
2۔متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔
3۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
4۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہے۔
5۔ ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، نیز فسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے، اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعانافذ نہیں ہوتا۔ ( فقہی مقالات : 192/2)
البتہ عورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اسے اپنے دعوی کو شرعی
شہادت (کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہیں صفات کی حامل دو عورتوں اور ایک مرد کی گواہی) سے ثابت کر نا پڑے گا، شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں۔
صورت مذکورہ میں اس عورت نے اپنے دعوی کو گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا، بلکہ عدالت نے محض اس کے دعوی کی بناء پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کی ہے ، اس لئے عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ڈگری شرعا معتبر نہیں اور جب تک اس خاتون کا شوہر اسے طلاق یا خلع نہ دے وہ اس کے نکاح میں رہے گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع : (315/4)
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
«المبسوط» للسرخسي (6/ 173):
«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


