| 87446 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
ایک عورت محکمہ تعلیم میں بطور اسکول ٹیچر مقرر ہوئی ، لیکن اس نے آٹھ سال تک کوئی ڈیوٹی نہیں کی اور اس دوران اس کی تمام تنخواہیں اس کے والد نے وصول کیں۔جبکہ وہ عورت نہ تو اسکول میں حاضر ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کی تعلیمی خدمات سر انجام دیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کے والد کے لئے اتنی مدت تنخواہیں لینا جائز ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اس کی تلافی کی کیا صورت ہوگی؟اگر وہ یہ تنخواہیں محکمہ تعلیم کو واپس جمع کرائے گا تو وہ لوگ بددیانتی کریں گے اور بیت المال میں جمع نہیں کریں گے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ سرکاری ٹیچر ، یا ملازم کی حیثیت اجیر خاص کی ہے۔ اجیر خاص (ملازم) اجرت کا مستحق تب ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو مقررہ مدت میں کام کے لئے سپرد کردے۔ اگر وہ مقررہ اوقات میں اپنے آپ کو سپرد نہیں کرتا تو ایسی صورت میں اس کا تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ عورت کے لئے اور نہ ہی اس کے والد کے لئے تنخواہ وصول کرنا جائز ہے، کیونکہ عورت نے ڈیوٹی انجام نہیں دی، جس کی وجہ سے وہ تنخواہ کی مستحق نہیں ہے۔عورت کے والد نے جتنی تنخواہیں وصول کی ہیں وہ اسکول انتظامیہ کو دینے کی بجائے محکمہ تعلیم کو واپس کردے۔ یاد رہے کہ اس کی تفصیل بتانا ضروری نہیں ہے، بلکہ کسی بھی طریقے اور عنوان سے محکمہ میں رقم جمع ہوجانے سے ذمہ داری ادا ہوجائے گی ۔ مثلا آپ رقم محکمے کے کسی فنڈ میں ڈال دیں ، یا عطیات میں جمع کرادیں ۔اسی طرح بددیانتی کا امکان کم ہوجائے گا۔
صرف ا س شبہ کی وجہ سے تنخواہیں جمع نہ کرانا "کہ وہ لوگ بددیانتی کریں گے" جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی بددیانتی کرے گا بالفرض تو اس کا ذمہ دار وہ ہوگا ، آپ نہیں۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 175):
وقد يقام فيه تسليم النفس مقام الاستيفاء كما في أجير الواحد حتى لو سلم نفسه في المدة ولم يعمل يستحق الأجر.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 236):
الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد أيضا (هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص) وفوائد القيود عرفت مما سبق (ويستحق الأجر بتسليم نفسه مدته، وإن لم يعمل كأجير شخص لخدمته أو رعي غنمه).
النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (23/ 118 بترقيم الشاملة آليا):
إن ثمن الخمر حرام كله فكذلك كسب المغنية، حتى قال بعض مشائخنا: كسب المغنية كالمغصوب لا يحل أخذه.
وعلى هذا قالوا: لو مات رجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة إن تورع الورثة عن ذلك فهو أولى، ويردون على أربابها إن عرفوهم، وإن لم يعرفوهم تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14/ذی القعده/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


