| 87453 | جائز و ناجائزامور کا بیان | غیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان |
سوال
میں ایک نجی ادارے میں ملازم ہوں۔ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق ہر ملازم کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کاٹنا لازم ہوتا ہے، اور جوں جوں تنخواہ زیادہ ہوتی ہے، ٹیکس کی شرح بھی بڑھتی ہے۔زیادہ ٹیکس سے بچنے کےلیے کمپنی یہ کرتی ہے کہ تنخواہ دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے: ایک حصہ ملازم کے اپنے نام پر، اور دوسرا حصہ اس کی بیوی کے نام پر ظاہر کیا جاتا ہے، حالانکہ بیوی حقیقت میں کمپنی میں ملازمہ نہیں ہوتی۔ یوں کمپنی کی طرف سے بظاہر دو افراد کو کم تنخواہیں دی جا رہی ہوتی ہیں، اور اس تقسیم کی وجہ سے مجموعی انکم ٹیکس کی رقم کم ہو جاتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعی لحاظ سے کمپنی کا یہ طریقہ درست ہے؟ کیا یہ حکومتی نظام کو دھوکہ دینے، جھوٹ بولنے اور ناجائز طریقے سے ٹیکس بچانے کے زمرے میں آتا ہے؟ ایسی تنخواہ کا لینا ملازم کے لیے شرعاً درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل جواب سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ ٹیکس کی حیثیت کیا ہے ؟ فقہاء کرام نے درج ذیل شرائط کے ساتھ صرف بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش دی ہے:
1۔ حکومت کے مصارف کو اسراف وتبذیر سے پاک کیا جائے۔
2۔ ٹیکس اتنا ہی لگایا جائے جو ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہو،یہاں تک کہ قومی خزانے میں وسعت پیدا ہوجائے۔
3۔ ٹیکس عائدكرنے میں انصاف سے کام لیا جائے،یہ نہ ہو کہ کسی پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہو اور اسی قسم کے دوسرے شخص پر اس سے کم لگایا جائے۔
4۔ قومی خزانہ خالی ہو، یعنی اس میں موجود مال درپیش ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو۔
5۔ ٹیکس کی رقم ملک وملت کی حقیقی ضرورتوں اور مصالح پر خرچ کی جائے،بے جا ضائع نہ کی جائے۔
6۔ لوگوں پر ان کی حیثیت کے مطابق ٹیکس لگایا جائے،یعنی ٹیکس کی شرح اتنی زیادہ نہ مقرر کی جائے جس کی ادائیگی لوگوں کے لیے بوجھ بن جائے۔
اگر حکومتی ٹیکسز میں درج بالا شرائط کی پاسداری کی جائے،تو ملک کے باشندوں پر اس ٹیکس کی ادائیگی شرعا واجب ہے،جھوٹ اور غلط بیانی وغیرہ کے ذریعہ یہ ٹیکس معاف کروانا جائز نہیں ،البتہ اگر مذکورہ بالا شرائط کی پاسداری نہ کی جائے تو جتنا ٹیکس ناحق وصول کیا جارہا ہو اس سے بچنے کے لئے سوال میں مذکور حیلہ یا کوئی اور حیلہ اختیار کرنا درست ہے ۔ دونوں صورتوں میں ملازم کے لئے ایسی تنخواہ لینا جائز اور حلال ہے ۔
رہی یہ بات کہ حکومت کتنی مقدار جائز وصول کررہی ہے اور کتنی ناجائز؟اس بارے میں ٹیکس کے ماہرین ہی بتاسکتے ہیں،ہر فرد کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے ناجائز ٹیکس لیا جارہا ہے،ہاں اگر کوئی شخص محسوس کرتا ہے اور اسے ٹیکس کے نظام کے بارے میں یقین ہے کہ اتنی مقدار غیر ضروری اور ناجائز ہے تو اس کے لیے ناجائز ٹیکس سے خود کو بچانے کے لیے تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ (ماخوذ از تبویب ،دارا لافتاء جامعۃ الرشید ، 73528)
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (42/ 6) :
ويقول الشاطبي: إنا إذا قررنا إماما مطاعا مفتقرا إلى تكثير الجند لسد حاجة الثغور وحماية الملك
المتسع الأقطار، وخلا بيت المال، وارتفعت حاجات الجند إلى ما لا يكفيهم فللإمام إذا كان عدلا أن يوظف على الأغنياء ما يراه كافيا لهم في المال، إلى أن يظهر مال بيت المال، ثم إلى الإمام النظر في توظيف ذلك على الغلات والثمار وغير ذلك۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 331):
[فرع] في مجموع النوازل: جماعة طمع الوالي أن يأخذ منهم شيئا بغير حق فاختفى بعضهم وظفر الوالي ببعضهم فقال المختفون لهم لا تطلعوه علينا وما أصابكم فهو علينا بالحصص، فلو أخذ منهم شيئا فلهم الرجوع قال هذا مستقيم على قول من جوز ضمان الجباية وعلى قول عامة المشايخ لا يصح فتح.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 422) :
والأفضل مشاركة أهل محلته في إعطاء النائبة لكن في زماننا أكثرها ظلم فمن تمكن من دفعه عن نفسه فحسن، وإن أعطى فليعط من عجز. ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه وجوزه الشافعي وهو الأوسع۔
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


