| 87514 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارا ایک عدد وراثتی مکان تھا جو کہ والد صاحب نے اپنی وفات سے پہلے میرے نام کردیا تھا۔ میں اپنے کاروباری معاملات کی وجہ سے کئی لاکھ کا مقروض ہو چکا تھا۔ والد صاحب کی خواہش تھی کہ مکان کو بیچ کر قرض ادا کردیا جائے، اس سلسلے میں میرے والد صاحب نے میرے بہن بھائیوں سے مشورہ بھی کر لیا تھا، لیکن افسوس کہ والد صاحب کی زندگی میں یہ کام نہ ہو سکا۔ ان کی بیماری کا جنوری 2003 میں معلوم ہوا اور وہ نومبر 2003 میں کینسر کی بیماری میں مبتلا ہو کر انتقال فرما گئے۔ان کے انتقال کے بعد اپریل 2004 میں ہم نے مکان بیچ دیا۔ مکان)1,40,00,000ایک کروڑ، چالیس لاکھ ) میں فروخت ہو ا۔اسکے علاوہ والد صاحب کی پنشن کی رقم بینک میں جمع تھی اور کچھ رقم گھر میں موجود تھی اس طرح کل اثاثہ 1,42,18,630(ایک کروڑ ،بیالیس لاکھ ،اٹھارہ ہزار، چھ سو تیس) بنا ۔مذکورہ رقم میں سے 61,63,300(کل اخراجات مع قرض کی ادائیگی) کے بعد بقیہ رقم 80,55,330(اسی لاکھ ،پچپن ہزار، تین سو تیس) ورثا میں تقسیم کر دئے۔ ہم 6 بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ ایک حصہ ہر بہن کو اور دو حصے ہر بھائی کو۔
سوال نمبر1: کیا یہ تقسیم صحیح ہوئی ہے۔ کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ قرض اور اخراجات کی رقم منہا نہیں کرنی چاہیے تھی۔
سوال نمبر 2: میرا ایک بھائی 35 سال سے امریکہ میں مقیم ہے اور وہ اپنا حصہ لینے سے صاف انکار کررہاہے۔ وہ اس دوران کئی مرتبہ پاکستان آچکا ہے۔ اس نے رقم کے بارے میں جاننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔اسکا پاکستان میں کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے اور نہ دلچسپی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپکے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔
نوٹ: ہم ٹوٹل ملا کر 9 بہن بھائی ہیں اور ماشاءاللہ سب حیات ہیں۔والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔
تنقیح: سائل نے بتایا کہ والد صاحب نے مکان نام کروانے کے بعد قبضہ نہیں کروایا اور "کل اخراجات" سے مراد اس مکان کو سائل کے اپنے نام کروانے پر جو اخراجات آئے وہ مراد ہیں اور"قرض کی ادائیگی" سے مراد سائل کے اپنے ذاتی کاروبار کے نتیجے میں جو قرض اس کے ذمہ آئے اس کی ادائیگی مراد ہے، نیزسائل کی والدہ کا انتقال والد سے پہلے ہوا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کوئی بھی چیز محض کسی کے نام کرنے سے اس کی ملکیت میں نہیں آتی ،جب تک مالک اس چیز کو اپنے تصرف سے فارغ کرکے حوالے نہ کردے۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد صاحب چونکہ خود مکان میں رہائش پذیر تھے،لہذا مکان کاقبضہ دیے بغیر صرف آپ کے نام کردینے سے یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا،یوں مذکورہ مکان بدستور آپ کے والد کی ملکیت میں برقرار رہا اور ان کے انتقال کے بعد سب ورثاء کا اس کے ساتھ حق متعلق ہوگیاتھا ،جس کا تقاضایہ تھا کہ کل ترکہ کو ورثاء کے درمیان ان کے حصص ِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کردیا جاتا اور ترکہ سے اخراجات اور قرض کی مد میں رقم نہ نکالی جاتی،لہذا جس طرح سائل نے بقیہ رقم کو ورثاء کے درمیان ان کے حصص ِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کیا ،اسی طریقے سے جتنی رقم اخراجات اور قرض کی مد میں نکالی گئی ہے، اس کو بھی تمام ورثہ کے درمیان ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کرنا سائل پر شرعا لازم ہوگا ۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے آپ کے بھائی کا ترکہ میں سے اپنا حصہ لینے سے انکار کرنے یا معاف کرنے سےان کاترکہ میں سے حق ختم نہیں ہوتا،اس لئے کسی بھی ممکن طریقے سے آپ کے بھائی تک ان کا حصہ پہنچانا ضروری ہے،پھر اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اگر انھیں ضرورت نہ ہو تو وہ اپنی مرضی سے جسے چاہیں اپنا حصہ ہبہ کرسکتےہیں ،لیکن ایک سے زائد ورثا کو اپنا حصہ ہبہ کرنے کی صورت میں باقاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حصہ دینا ضروری ہوگا،مشترکہ طور پر ہبہ کرنے سے ہبہ صحیح نہیں ہوگا۔اور یہ بھی کرسکتےہیں کہ وہ بھائیوں میں سے کسی کو اپنا وکیل بنادے ،وہ ان کے حصےکووصول کر لے اور ان کی مر ضی کے مطابق تقسیم کردے۔
حوالہ جات
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 378):
«لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.»
«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (2/ 220):
«لكن نقل في الذخيرة عن المنتقى عن أبي يوسف لا يجوز للرجل أن يهب من امرأته وأن تهب لزوجها أو الأجنبي دارا وهما ساكنان فيها وكذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة على الدار.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 447):
«التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث»
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائرللحموي" (3/ 354):
" لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه، وكذا لو قال المرتهن: تركت حقي في حبس الرهن بطل،كذا في جامع الفصولين للعمادي، وفصول العمادي .
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/ذی القعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


