| 87777 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ
میں نے جامع مسجد شاہی فقیر کالونی کے متصل ایک کمرے کی جگہ جون 2012ء میں اس نیت سے خریدی اور وہاں کمرہ بنایا کہ مسجد میں جب تبلیغی جماعت یا بیرونِ ممالک سے آنے والی جماعتوں کی تشکیل ہو تو ان کے سامان کی حفاظت کی جا سکے۔ یہ جگہ میں نے ذاتی رقم سے خریدی تھی اور ذاتی رقم سے ہی کمرہ بھی تعمیر کیا۔ نہ تو خریدتے وقت مسجد کو وقف کرنے کی نیت تھی اور نہ بعد میں مسجد یا ضروریاتِ مسجد کے لیے وقف کیا۔
کیا یہ جگہ اب شرعاً وقف کہلائے گی؟ جب کہ میری نیت محض تبلیغی احباب کے لیے ایک سہولت فراہم کرنا تھی۔ اب میں اس جگہ کو ذاتی استعمال میں لانا چاہتا ہوں، لیکن بعض نمازی حضرات کہہ رہے ہیں کہ یہ جگہ اب وقف ہو چکی ہے، اس کو بیچ نہیں سکتے۔شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے جو جگہ خریدی اور تبلیغی جماعت کے لیے سامان رکھنے کی نیت سے استعمال کی، چونکہ اس میں آپ نے وقف کی کوئی نیت نہیں کی تھی، نہ ہی زبان سے وقف کا کہا تھا، اور نہ ہی عملاً مسجد یا جماعت کے حوالے کی تھی، جیسا کہ آپ نے خود بیان کیا ہے، لہٰذا یہ جگہ شرعاً وقف نہیں ہوئی۔آپ اب بھی اس کے مالک ہیں، اور اسے بیچنا یا ذاتی استعمال میں لانا آپ کے لیے جائز ہے۔محض دینی سہولت کے لیے استعمال کرانے سے کوئی جگہ وقف نہیں ہو جاتی۔
حوالہ جات
وفی الشامیة:
(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله: جعلته مسجدًا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه).
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 333)
(لا يزول ملك الواقف عن الوقف عند أبي حنيفة إلا أن يحكم به حاكم) يعني المولى أما المحكم ففيه خلاف المشايخ والأصح أنه لا يصح وطريق الحكم في ذلك أن يسلم الواقف ما وقفه إلى المتولي ثم يريد أن يرجع فيه محتجا بعدم اللزوم فيتخاصمان إلى القاضي فيقضي بلزومه، وكذا إذا أجازه الورثة جاز؛ لأن الملك لهم فإذا رضوا بزوال ملكهم جاز كما لو أوصى بجميع ماله قوله (أو يعلقه بموته فيقول إذا مت فقد وقفت دار على كذا) ؛ لأنه إذا علقه بموته فقد أخرجه مخرج الوصية وذلك جائز ويعتبر من الثلث؛ لأنه تبرع علقه بموته فكان من الثلث كالهبة والوصية في المرض قوله (وقال أبو يوسف يزول بمجرد القول) ؛ لأنه بمنزلة الإعتاق عنده وعليه الفتوى. قوله (وقال محمد لا يزول الملك حتى يجعل للوقف وليا ويسلمه إليه) ؛ لأن من شرط الوقف عنده القبض؛ لأنه تبرع في حال الحياة كالهبة وإذا اعتبر فيه القبض أقام إنسانا يتولى ذلك ليصح .
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
25/12/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


