| 88308 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام وجیہ مظہر ہے، میری شادی بلال احمد نقوی سے 2008 میں ہوئی، شادی کے ابتدائی دنوں سے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بلال نقوی کردار کا صحیح آدمی نہیں ہے اور نہ ہی مالی اعتبار سے مستحکم تھا ،کردار کا اندازہ تو اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ میرے موبائل سے ہی میری دوستوں کے نمبر نکال کر ان کو نازیبہ پیغامات بھیجتا تھا اور ان کو دوستی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتا تھا، ان کی انہی حرکتوں کی وجہ سے کئی بار میری دوستوں نے میرے میکے میں جا کے شکایات کی جو میرے بھائیوں نے معافی تلافی کر کے ختم کیں۔
رشتہ قائم رکھنے کے لیے میں نے اپنی تمام دوستیاں ختم کر دیں۔میرے اس عمل سے بھی اس کی زندگی گزارنے کے طریقے میں کوئی فرق نہیں آیا اور اس کی غیر اخلاقی سرگرمیاں وقت کے ساتھ بڑھتی گئیں،بلال کی سب سے بڑی خامی یہ بھی تھی کہ وہ فحش ویڈیوز نشے کی حد تک دیکھتے تھے اور یہ عادت ان کی وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی تھی، مالی معاملات کا حال یہ تھا کہ مجھے ہر تھوڑے دن میں میکے سے پیسے لانے کا کہا جاتا تھا جو کہ ان کی آہستہ آہستہ عادت بن گئی تھی، وقتا فوقتا بغیر میری کسی غلطی کے مجھ پہ ہاتھ بھی اٹھایاجاتا۔
اس رشتے میں اللہ پاک نے مجھے تین اولادوں سے نوازا ،جس میں سب سے بڑی میری بیٹی ہے، جس کی عمر اب 15 سال ہے اس کو بھی اپنے والد کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کا معلوم ہو گیا تھا اور اس سے اس کے دماغ پر منفی اثر پڑرہا تھا۔گھر کے حالات کو سدھارنے کے لیے میں نے اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا، تاکہ میں اپنے بچوں کی ضروریات کا خیال رکھ سکوں، لیکن بدلے میں میری پوری تنخواہ بلال صاحب مجھ سے پوچھے بغیر لے جاتے تھے اور اپنی عیاشیوں پہ خرچ کر دیتے تھے ،ان کے گھر میں گالیاں دینا عورتوں پہ ہاتھ اٹھانا بہت معمولی بات ہے، جس کی وجہ سے ان کے دو بھائیوں میں سے ایک بھائی کی بیوی نے خلع لے لی اور دوسری ان کے بھائی کو لے کے الگ ہو گئی۔
آج سے سات سال پہلے بھی ان کی انہی حرکتوں کی وجہ سے میں نے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے میکے آگئی تھی اور اپنے خاندان سے درخواست کی تھی کہ بلال کی فیملی کو بلا کے سمجھائیں دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی اور بلال کی باقاعدہ اپنی غلطیوں پہ ندامت اور معافی کے بعد مجھے بلال کے ساتھ ان کے گھر بھیج دیا گیا۔میرے واپس جانے کے بعد بلال احمد نے سدھرنے کے بجائے مجھ پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرنا شروع کر دیا اور اس حد تک ٹارچر کیا کہ ماہر نفسیات نے یہ کہا کہ اگر آپ مزید ٹارچر ہوں گی تو پاگل ہو جائیں گی۔
مجھے اپنے سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر ہو رہی تھی، ان حالات کا ان کے دماغ پہ منفی اثر ہو رہا تھا اور ان کا مستقبل خطرے میں تھا اسی دوران مجھے پتہ چلا کہ انہوں نے اپنے دفتر کی کولیگ سے نکاح کر لیا۔میں یہاں بتاتی چلوں کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے دوسری شادی سے کوئی اعتراض نہیں تھا، اگر میرا شوہر ہمارے بنیادی حقوق اور اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کر رہا ہوتا، میری تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ میں اپنی فیملی اور بلال کے اخراجات اٹھا سکتی تو شادی کے 15 سال بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے بلال سے علیحدگی کر لینی چاہیے۔
اس کے لیے میں نے سب سے پہلے یونین کونسل سے رابطہ کیا کہ مجھے بلال سے طلاق دلوائی جائے، جس کے رد عمل میں بلال نے میرے بھائیوں کو قتل کی دھمکیاں دیں اور ہمیں مجبورا پھر کوٹ کی طرف جانا پڑا۔
بلال نقوی نے کئی بار قرآن پاک اٹھایا اور اس کی ویڈیوز مجھ سے شیئر کیں کہ میں نے کوئی دوسری شادی نہیں کری اور میرا کسی لڑکی سے کوئی تعلق نہیں۔اسی دوران اس کی دوسری بیوی نے میرے بھائی سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ بلال نقوی اسے دھوکہ دے رہا ہے اور اب اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد اس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہے، جب بلال کو یہ کہا گیا کہ تم دوسرا رشتہ ہی نبھالو تو اس نے ہمیں یہ کہا کہ اس نے حلع کے لیے اپلائی کیا تھا، اس کو طلاق دے دی تھی، دوسری عورت نے بھی بلال کے خلاف کورٹ میں حق مہر کے لیے کیس کیا ہوا ہے یہاں یہ بتاتی چلوں کہ ان تمام مہینوں میں بھی میرا خرچہ نہیں دیا گیا۔
جب ہم نے کورٹ سے رابطہ کیا تو کورٹ نے پورے کیس کی پیروی کرنے کے بعد تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دی، بلال ابھی تک اپنے رشتہ داروں کے ذریعے دھمکیاں دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جج کا کوئی حق نہیں کہ تمہیں طلاق دے اور میں تمہاری زندگی اجیرن بنا دوں گا اور ہم سے دارالعلوم کے فتوے شیئر کر رہا ہے جو اس نے اپنی فرضی کہانی سنا کرلیے ہوئے ہیں۔
آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کورٹ کی دی ہوئی تنسیخ نکاح کی ڈگری کی کیا حیثیت ہے؟کیونکہ میں اس کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی اور اس کے رشتہ داروں کے ذریعے یہ بات پتہ چلی ہے کہ اس نے کہا ہے کہ ایک بار وجیہہ گھر ا جائے میں اس کی اوقات یاد دلاؤں گا، مجھے اپنی جان اپنے مال اور اپنے بچوں کے مستقبل کے اوپر شدید خدشات لاحق ہیں، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت: سائلہ کے بھائی نے بتایا کہ ہم نے دعوی میں نان ونفقہ نہ دینے کا ذکر کیا تھا اور عدالت میں بطور گواہ کے ہمارے دو بھائی جاتے تھے، انہوں نے دعوی میں ذکر کیے گئے امور کا عدالت کو مکمل ثبوت پیش کیا تھا، جس کی بنیاد پر عدالت نےخلع کی ڈگری جاری کی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق اگر آپ کے بھائی بطورِگواہ عدالت میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے عدالت میں شوہر کے نان ونفقہ نہ دینے پر گواہی دی تھی، جس کی بنیاد پر عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی تو ایسی صورت میں یہ عدالتی خلع کا فیصلہ صحیح اور معتبر ہے، اگرچہ اس میں خلع کے الفاظ ذکر کیے گئے ہیں، لیکن شرعاً ان سے فسخ نکاح مراد لیا جائے گا، کیونکہ خلع کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے، لہذا فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے اور اسی دن سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت مکمل ہونے پر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
24/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


