| 87919 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
جو لوگ فلاحی ادارے میں کام کریں گے، اس کے لیے محنت کریں گے، ان کے لیے ہدیہ وغیرہ کی کیا صورت ہونی چاہیے؟ اورجو ٹرسٹیز ہیں وہ بھی اس رقم سے بقدر ضرورت استفادہ کرسکیں کیا ایسا کرنا بھی درست ہے؟
تنقیح:سائل سےٹرسٹیز کےحوالے سے پوچھنے پربتایا کہ ٹرسٹیز سے مراد فلاحی ادارے کی بنیاد رکھنے والے اور بنیادی فنڈ دینے والے جو تین یا چار افراد ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فلاحی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کی معروف اجرت کے بقدر تنخواہ طے کرنا شرعادرست ہے ،یعنی اس علاقے میں اس جیسے کام اور اوقات دینے پر جتنی اجرت دی جاتی ہےاس کو معیاربناکرتنخواہ کا تعین ہوگا اورتنخواہ کا تعین ہر علاقے کے حساب سے مختلف ہوسکتاہے۔ البتہ جہاں تک ٹرسٹیز کا فلاحی ادارے کی رقم سے بقدرِ ضرورت استفادہ کرنے کا تعلق ہے، اگروہ ادارے کی فلاح و بہبود کے لیےاپنی خدمات انجام دیتے ہوں تو اس صورت میں ان کے لیے بھی معروف اجرت کے بقدر تنخواہ لے نے کی شرعا گنجائش ہےورنہ نہیں ، کیونکہ خدمات انجام دینے کی صورت میں ان کی حیثیت شریعت کی رو سے اجیر(عامل) کی ہے ۔تاہم یہ بات ملحوظ رہے کہ ادارے کے اخراجات ،ملازمین کی تنحواہیں وغیرہ زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ(فطرہ،فدیہ،کفارہ اور نذر) کی مد میں جمع ہونے والے فنڈسے نہ دی جائیں، بلکہ صدقاتِ نافلہ اور عطیات کی مد میں جمع ہونے والے فنڈ سے دی جائیں، اس لیے کہ زکوۃ اور صدقاتِ واجبہ کو فقرا ءو مساکین کو بلا عوض بطورِملکیت دینا ضروری ہے، جبکہ ملازمین کی تنخواہیں ان کی محنت کا عوض اور صلہ ہے ، لہذا اگر ان کی اجرت زکوۃ یا صدقاتِ واجبہ کی مد میں جمع ہونے والے فنڈ سے دی گئی تو دینے والے کی زکوۃ اورصدقاتِ واجبہ ادا نہ ہونگی۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 461):
وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد يكنسه ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها فإن كان أكثر فالإجارة له وعليه الدفع من مال نفسه.
المحيط البرهاني» (6/ 214):
سئل الفقيه أبو القاسم عن قيم مسجد جعله القاضي قيما على غلاتها وجعل له شيئا معلوما يأخذ كل سنة حل له الأخذ إن كان مقدار أجر مثله؛ لأن للقاضي أن يستأجر أجيرا بأجر مثله لذلك وإن لم يشترط الواقف.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
28/ذی الحجہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


