| 87828 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے،وارثین میں ایک زوجہ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ترکہ کی مالیت بیالیس لاکھ روپے ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کی منقولہ و غیر منقولہ جائداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ تجہیز و تکفین کا خرچ منہاکرنے اورمرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتواسےاداکرنےکےبعد،یامرحوم نےکوئی جائزوصیت کی ہوتواسےایک تہائی ترکہ میں نافذکرنےکےبعد،باقی منقولہ وغیرمنقولہ جائداد اسی(80)حصوںمیں تقسیم کرکےمرحوم کی زوجہ کو دس(10)حصے،ہر بیٹےکو چودہ(14) حصےاورہر بیٹی کو سات(07)حصےملیں گے۔ فیصد کے اعتبار سے 12.50 فیصد زوجہ کو،17.50 فیصدہر ایک بیٹے کو اور 8.75 فیصد ہرایک بیٹی کو ملے گا۔
یاد رہے مذکورہ تقسیم اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ سوال میں دی گئی معلومات کے مطابق مرحوم کی وفات کے وقت مرحوم کے ورثاء میں فقط ایک زوجہ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں،ان کے علاوہ کوئی اور وارث جیسے مرحوم کے والدین وغیرہ زندہ نہیں تھے۔
|
مرحوم سے رشتہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
ترکہ (4,200,000) |
|
زوجہ |
10 |
12.50فیصد |
525,000 |
|
(1)بیٹا |
14 |
17.50فیصد |
735,000 |
|
(2)بیٹا |
14 |
17.50فیصد |
735,000 |
|
(3)بیٹا |
14 |
17.50فیصد |
735,000 |
|
(4)بیٹا |
14 |
17.50فیصد |
735,000 |
|
(1)بیٹی |
7 |
08.75 فیصد |
367,500 |
|
(2)بیٹی |
7 |
08.75 فیصد |
367,500 |
|
مجموعہ |
80 |
100فیصد |
4,200,000 |
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 769)
(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 234)
قال - رحمه الله - (، وعصبها الابن، وله مثلا حظها) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنتين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 772)
(قوله والسدس لبنت الابن إلخ) للبنات ستة أحوال ثلاثة تتحقق في بنات الصلب، وبنات الابن وهي النصف للواحدة والثلثان للأكثر وإذا كان معهن ذكر عصبهن وثلاثة تنفرد بها بنات الابن.
الاختيار لتعليل المختار (5/ 91)
وأما الاثنان من السبب فالزوج والزوجة، فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن، والربع مع الولد أو ولد الابن، وللزوجة الربع عند عدمهما، والثمن مع أحدهما بذلك نطق صريح الكتاب، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع…
الفتاوى الهندية (6/ 451)
فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده……
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 762)
(فيبدأ بذوي الفروض)….. (ثم بالعصبات)…
الفتاوى الهندية (6/ 447)
فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية ……
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
28.ذوالحج1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


