03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تراویح میں عورتوں کی جماعت کا حکم
87960نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

کیا حافظۂ قرآن لڑکی دیگر عورتوں کو تراویح کی نماز پڑھا سکتی ہے؟ اور کیا عورت کا امامت كرنا شرعاً جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عام نمازوں میں عورتوں کی تنہا جماعت مکروہِ تحریمی ہے۔ البتہ تراویح کی نماز میں، چونکہ بعض حافظہ لڑکیاں ایسے ماحول میں گھری ہوتی ہیں کہ ان کے لیے روزانہ پابندی سے منزل پڑھنا ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا جن حافظہ لڑکیوں کی واقعتاً ایسی مشغولیت ہو کہ وہ پورے سال قرآن کا باقاعدہ دہرائی  نہ کر سکیں اور ان کے لیے قرآن یاد رکھنے کی واحد صورت یہی ہو کہ رمضان میں تراویح میں سنائیں، تو ان کے لیے گھر کی خواتین کے ساتھ تراویح کی جماعت کروانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ گھر والوں کے علاوہ دیگر گھروں یا محلوں کی خواتین کا اجتماع نہ ہو،کیونکہ دیگر گھروں کی عورتوں کے اجتماع سے فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس طرح کی عورتوں کی جماعت میں حافظہ صف کے درمیان کھڑے ہوکر اتنی آواز سے قراءت کرے کہ صرف جماعت میں شریک عورتیں ہی اس کی آواز سن سکیں۔

قرآنِ کریم کو یاد رکھنا صرف رمضان میں تراویح کے دوران سنانے تک محدود نہیں رکھنا  چاہیے، بلکہ اسے یاد رکھنے کے اور بھی بہت سے مؤثر اور آسان طریقے موجود ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ حافظات اپنی روزانہ کی نفل نمازوں میں قرآن کی تلاوت کرتی رہیں، اور جب موقع ملے تو نماز کے علاوہ دوسری خواتین یا محرم رشتہ داروں کو سنا لیا کریں۔ اس سے قرآن کی دہرائی  ہوگی اورحفظ پختہ  رہے گا۔

حوالہ جات

(مجمع الزوائد ۲؍۳۳ بیروت):

''عن عائشة أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لا خیر في جماعة النساء إلا في المسجد أو في جنازة قتیل''۔ (رواہ أحمد والطبراني في الأوسط) ''

(إعلاء السنن ۴؍۲۲۶):

''فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة''.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 565):

 (و) يكره تحريما (‌جماعة ‌النساء) ولو التراويح في غير صلاة جنازة (لأنها لم تشرع مكررة) ..... فإن فعلن تقف الإمام وسطهن... وأن الصلاة صحيحة، وأنها إذا توسطت لا تزول الكراهة، وإنما أرشدوا إلى التوسط لأنه أقل كراهية من التقدم.

(کتاب الآثار، باب المرأۃ تؤم النساء، وکیف تجلس في الصلاۃ؟ کراچی ۱/ ۲۰۸، رقم: ۲۱۷):

عن عائشۃ -رضي اﷲ عنہا- أنہا کانت تؤم النساء في شہر رمضان، فتقوم وسطا، قال محمد: لا یعجبنا أن تؤم المرأۃ، فإن فعلت قامت فی وسط الصف مع النساء کما فعلت عائشۃ -رضي اﷲ تعالیٰ عنہا- وہو قول أبي حنیفۃ رحمہ اﷲ.

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   12  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب