03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غاصب کے انتقال کے بعد ورثاء کو ضامن بنانا
88093غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

میرے دادا ...... کا انتقال 1984 میں ہوا تھا، میرے چچا کا انتقال 2020 میں ہوا اور میرے والد صاحب کا انتقال 1997 میں ہوا تھا۔

میرے دادا ..... کے انتقال کے بعد میرے چچا نے ان کی زمین پر قبضہ کر لیا ۔وہ زمین کی آمدن کھاتے رہے۔میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہر ممکن کوشش کی کہ زمین دونوں بھائیوں کے درمیان تقسیم ہو جائے،لیکن میرے چچا محبوب علی خان بضد رہے اور زمین پر قبضہ رکھا اور تقسیم نہ کی ۔میرے والد صاحب نے علاقے کے بزرگوں اور بڑوں سے  کہا اور ان کے پاس زمین کی تقسیم کے لیے درخواست دی، لیکن میرے چچا نہ مانے۔ میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد زمین پر ہمارے رشتہ داروں نے قبضہ کر لیا اور سنہ  2000 سے زمین ان کے قبضہ میں  ہے۔ اب اس  مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے جرگہ بٹھایا ہے اور جرگے کے بڑے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کسی مفتی سے پوچھ لیں کہ جو زمین آپ کے رشتہ داروں میں قبضہ میں ہے ، آیا دونوں فریق  یعنی آپ اور آپ کے چچا کے ورثاء  پر برابر تقسیم ہوگی یا صرف آپ  کے چچا کے ورثاء نقصان  برداشت کریں گے؟ ہمارا موقف ہے کہ چونکہ ہمارے چچا زمین  کی تقسیم کرنے کے لیے بالکل تیار نہ تھے ،لہٰذا ان کی بیٹی اور ورثاء سارا نقصان اٹھائیں گے۔ دوسرا فریق کہہ رہا ہے کہ زمین کا نقصان آپ لوگ بھی اٹھائیں گے، کیونکہ یہ ہماری آبائی زمین ہے ۔

وضاحت: سائل سے زبانی رابطہ پر معلوم ہوا کہ ان کے دادا  کے  انتقال کے  وقت ورثاء میں دادا کی دو بیٹیاں ، اور دو بیٹے تھے ، اور ترکہ میں کل زمین 27کنال زرعی زمین  تھی ، اس میں سے 12کنال زمین ورثاء میں تقسیم ہو گئی تھی کہ ہر بیٹےکو  4،4 کنال زمین ملی اور دونوں بیٹیوں (سائل کی پھوپھیوں ) کو 2,2کنال زمین ملی ۔ باقی 15کنال زمین میں سے 10کنال زمین ابھی کھنڈر ہے لہٰذا وہ ویسے ہی  ویران پڑی ہے ، جبکہ 5کنال پر  سائل کے چچا نے تقریباً 10،12سال قبضہ رکھا اور اس زمین  کو ٹھیکہ پر دے کر اس سے حاصل ہونے والی  آمدن بھی کھاتے رہے ، پھر انہی کے رشتہ داروں میں سے کسی نے اس5کنال پر قبضہ کرلیا ، اب تنازع اس بات پر ہے کہ سائل کا کہنا ہے کہ  اگر ان کے چچا زاد  یہ زمین قبضہ سے چھڑوانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ اس کا مکمل نقصان خود برداشت کریں گے اور بقیہ 10 کنال میں سے سائل اپنے والد کا بقیہ حصہ وصول کرلیں گے ، چچا کے ورثاء کو اس میں سے نہیں ملے گا، البتہ اگر زمین قبضہ سے چھڑوالیتے ہیں تو اس کو تقسیم کریں گے ،  سائل کا موقف یہ ہے کہ ان کے چچا نے اس زمین کی آمدن تقریبا ً دس سال استعمال کی ہے ، لہٰذا نقصان بھی چچا کے ورثاء برداشت کریں ، جبکہ دوسرا فریق یہ کہتا ہے کہ یہ ہماری آبائی زمین ہے،لہٰذا دونوں نقصان برداشت کریں ۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور رتمہید یہ بات واضح رہے کہ میت نےاپنے ترکہ میں جوکچھ چھوڑا ہو ، تجہیز و تکفین ،میت کے ذمہ واجب الادامالی واجبات کی ادائیگی اور جائز وصیت پر عمل کے بعد جو مال بھی باقی بچتا ہے ، اس میں تمام ورثاء اپنے حصوں کے بقدر شریک ہوتے ہیں اورترکہ جب تک تقسیم نہ ہوجائے، اس وقت تک تمام ورثاء اس میں مشترکہ طور پر شریک ہوتے ہیں، کسی وارث کے لیے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر ترکہ میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔

سوال میں ذکرکردہ صورت اگر واقعہ کے مطابق ہے ، تو دادا کے انتقال کے وقت موجود ورثاء یعنی میت کے دو بیٹے اور دونوں بیٹیاں  ترکہ کی 27کنال زمین میں اس  تناسب سے حقدار ہیں  کہ ہر بیٹے کو اس زمین میں سے 9کنال ملیں گے ، اور ہر بیٹی کو4.5کنال زمین حصہ میں ملے گی،  جو کہ ان کے انتقال کے بعد آگے  ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔

اس تمہید کے بعد صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ  جس5 کنال زمین پر آپ کے چچا نے تقریباً 10سال سے  قبضہ کر رکھا تھا ، اور اس کو ٹھیکہ پر دے کر اس کی آمدن کھاتے رہے،  تو چونکہ ا ن کا قبضہ غاصب کا قبضہ ہے اور یہ زمین  معد للاستغلال ہے  (معد للاستغلال کا مطلب یہ ہے کہ چیز کو ذریعہ آمدن کے طور پر استعمال کرنا، علامہ خالد اتاسی رحمہ اللہ نے طحطاوی کے حوالہ سے زمین کو مزارعت پر دینا بھی معد للاستغلال میں شامل کیا ہے۔ تبویب 81832) اور مغصوبہ چیز کے  معد للاستغلال ہونے کی صورت میں غاصب پر ضمان کی متقدمین حنفیہ نےتصریح کی ہے، لہٰذا آ پ کے چچا جتناعرصہ زمین پر قابض رہے اور اس کی آمدن کھاتے رہے، اتنے عرصہ کی آمدن اور منافع کا چچا ضامن ہوں گےاور چچا کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ میں سے ضمان ادا کیا جائے گا ۔

رہی یہ بات  کہ جس زمین پر چچا نے بطور غاصب قبضہ کر رکھا تھا  اور سنہ 2000میں  آ پ کے رشتہ داروں میں سے کسی نے اس پر قبضہ کرلیا ، تو  اب اس زمین کے مستحقین یعنی  آپ کو اور آپ کی پھوپھیوں کو اختیار ہے کہ  چاہے تو دوسرے غاصب رشتہ داروں سے اس مقبوضہ جائیداد کی واپسی کا مطالبہ کریں ،  کیونکہ وہ اس جائیداد پر قابض ہیں ، اور اگر چاہیں تو چچا کو ضامن ٹھہرائیں ، البتہ چچا (غاصب ) کے انتقال کے بعد   ان کے ورثاء کو ضامن نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ ان کی جانب سے کوئی قبضہ یا تعدی نہیں پائی جارہی ۔ بلکہ آپ، آپ کی پھوپھیاں  اور آپ کے چچا کے ورثاء  یعنی دونوں فریقین   غاصب ثانی (جنہوں نے آپ کے  چچا سے زمین غصب کی تھی ) سے ضروری   قانونی کاروائی وغیرہ کے ذریعے  زمین کی واپسی کا مطالبہ کریں، خدانخواستہ قبضہ نہیں ملتا تو  چچا کے ورثاء کے حصہ میں سے اس کا ضمان نہیں لے سکتے ،بلکہ سب  مستحقین کا حصہ اپنے اپنے شرعی وراثتی حصہ کے تناسب سے ہلاک ہوگا اور سب نقصان برداشت کریں گے ۔

حوالہ جات

التقرير والتحبير علي التحريرلشمس الدين محمد بن محمد المعروف بابن أمير حاج الحنفي (المتوفى: 879 هـ) (2/ 130) دار الكتب العلمية:

وفي جامع الفتاوى نقلا عن المحيط الصحيح لزوم الأجران معدا للاستغلال بكل حال وحكى بعضهم الإجماع على ضمان المنافع بالغصب والإتلاف إذا كان العين معدا للاستغلال بل وسيذكر المصنف في ذيل الكلام على العلة من مباحث القياس أنه ينبغي الفتوى بضمان المنافع مطلقا لو غلب غصبها وهو حسن كما نذكره ثمة إن شاء الله تعالى، والله سبحانه أعلم.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 80) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(المادة 417) : المعد للاستغلال هو الشيء الذي أعد وعين على أن يعطى بالكراء كالخان والدار والحمام والدكان من العقارات التي بنيت واشتريت على أن تؤجر وكذا كروسات الكراء ودواب المكارين , وإيجار الشيء ثلاث سنين على التوالي دليل على كونه معدا للاستغلال. والشيء الذي أنشأه أحد لنفسه يصير معدا للاستغلال بإعلامه الناس بكونه معدا للاستغلال.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4793) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

منافع المغصوب وغلته: لا يضمن الغاصب عند الحنفية منافع ما غصبه من ركوب الدابة، وسكنى الدار، سواء استوفاها أم عطلها؛ لأن المنفعة ليست بمال عندهم؛ ولأن المنفعة الحادثة على يد الغاصب لم تكن موجودة في يد المالك، فلم يتحقق فيها معنى الغصب، لعدم إزالة يد المالك عنها. وهذا فيما عدا ثلاثة مواضع يجب فيها أجر المثل، في اختيار متأخري الحنفية، وعليه الفتوى، وهي أن يكون المغصوب وقفاً، أو ليتيم، أو معداً للاستغلال بأن بناه صاحبه أو اشتراه لذلك الغرض. وإن نقص المغصوب أي ذاته باستعمال الغاصب غرم النقصان، لاستهلاكه بعض أجزاء العين المغصوبة، كما سأبين.

وأما غلة المغصوب كما سيأتي بيانه: فلا تطيب في رأي أبي حنيفة ومحمد للغاصب؛ لأنه لا يحل له الانتفاع بملك الغير. وقال أبو يوسف وزفر: تطيب له.

وقال المالكية في المشهور: يضمن الغاصب غلة مغصوب مستعمل، أي أنه يضمن غلة المغصوب ذاته الذي استعمله الغاصب، سواء كان المغصوب عقاراً من دور أو أرض سكنها أو زرعها أو كراها، أم منقولاً: حيواناً أو غيره، كراه أو استعمله، ولا يضمن ما نشأ من غير استعمال، ولو عطّله على صاحبه........... وقال الشافعية والحنابلة: يضمن الغاصب منفعة المغصوب، وعليه أجر المثل، سواء استوفى المنافع، أم تركها تذهب، وسواء أكان المغصوب عقاراً كالدار، أم منقولاً كالكتاب والدابة.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص613): المغصوب منه مخير بين تضمين الغاصب وغاصبالغاصب

تحفة الفقهاء (3/ 239):

بخلاف غاصب الغاصب مع الغاصب فإن للمالك أن يضمن أيهما شاء وإذا اختار تضمين أحدهما لم يكن له اختيار الآخر

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 151):

وقت وجوب الضمان فوقت وجود الغصب؛ لأن الضمان يجب بالغصب، ووقت ثبوت الحكم: وقت وجود سببه، فتعتبر قيمة المغصوب ‌يوم ‌الغصب،

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب