| 88140 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب، میں ایک آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم *"XM"* استعمال کر رہا ہوں، جس کا ثبوت منسلک تصویروں میں موجود ہے۔ اس پر میں نے ایک *اسلامی (Swap-Free)* اکاؤنٹ کھولا ہے، جس کی تصدیق بھی کمپنی کی طرف سے ای میل کے ذریعے ہوئی ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ:
(1)میں صرف *فاریکس کرنسی پیئرز* (جیسے EUR/USD، USD/JPY وغیرہ) میں ٹریڈنگ کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی کرپٹو یا کوئنز میں لین دین نہیں کرتا۔(2)میں *sell* اور *buy* دونوں طرح کی پوزیشنز لیتا ہوں، اور ان پر *منافع یا نقصان* حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ منسلک تصاویر میں دکھایا گیا ہے۔(3)پلیٹ فارم دعویٰ کرتا ہے کہ اسلامی اکاؤنٹ میں کوئی *سود (Swap)* لاگو نہیں ہوتا۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ:
(1) کیا اس طرح کا آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کرنا شرعاً جائز ہے؟
(2) کیا اس پلیٹ فارم کا اسلامی اکاؤنٹ واقعی شریعت کے اصولوں کے مطابق ہے؟
(3) اگر کوئی مخصوص شرط یا احتیاط ہو تو برائے مہربانی وہ بھی بیان فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے۔
1) جائز چیز کی خریدو فروخت ہو۔
2) لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاونٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔
3) چیز بیچنے والا اس کامالک ہواور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔
4) عقد کی مجلس میں ہی مبیع (subject matter)پرحقیقتاً یا حکماً قبضہ کیا جائے۔
5) کرنسی اور سونا چاندی کی خرید وفروخت میں بوقت عقد کسی ایک عوض پر لازمی قبضہ کیا جائے۔
6) بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو،اسی طرح آپشز(options)،لانگ یا شارٹ پوزیشن،مارجن ٹریڈنگ،شارٹ سیل اوربلینک سیل کی صورت نہ ہو۔
ہماری معلومات کےمطابق آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط کا عملاً خیال نہیں رکھا جاتا،buy اور sell وغیرہ کے الفاظ فقط رسمی طور پر لکھے ہوتے ہیں، حقیقتاً خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق نہیں کی جاتی،بلکہ صرف فرق برابر کیا جاتا ہے،اس لیےاس سے احتراز لازم ہےاور اس پرٹریڈنگ کرنا،شرعاًناجائز ہے ۔
ضروری وضاحت: فاریکس،شیئرز اور مختلف کموڈٹیز میں آن لائن خرید وفروخت کے حوالے سے تفصیلی فتوی،دارالافتاء جامعۃ الرشید کی ویب سائٹ almuftionline.com پر بعنوان "آن لائن فاریکس ٹریڈنگ اور اسٹاک ایکسچینج میں رائج مختلف صورتوں کا حکم" یا فتوی نمبر 85615 سرچ کرکے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
19.محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


