| 88135 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
ایک شخص جو خود سعودی عرب کا رہائشی ہے، اُس نے اپنے بیٹے کو تعلیم دینے کے لیے ایک پاکستانی قاری صاحب سے رابطہ کیا۔ معاہدہ اس طرح طے پایا کہ اگر قاری صاحب خود اپنا ویزہ لگوا کر آئیں گے، تو ان کی ماہانہ تنخواہ 1500 ریال ہوگی اور اگر مذکورہ شخص قاری صاحب کے ویزے کا بندوبست کرے گا، تو قاری صاحب کی تنخواہ 1200 ریال ماہانہ ہوگی۔بہرحال مذکورہ شخص نے خود قاری صاحب کے ویزے کا انتظام کر دیا، لیکن فی الحال قاری صاحب پاکستان ہی سے تعلیم دے رہے ہیں اور وہاں پڑھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔اب اس شخص کا خیال یہ ہے کہ چونکہ قاری صاحب پاکستان میں پڑھا رہے ہیں، لہٰذا تنخواہ میں فرق ہونا چاہیے، کیونکہ 1200 ریال کی تنخواہ تو سعودیہ میں پڑھانے کی بنیاد پر طے کی گئی تھی؛ جبکہ معاہدے کی ابتداء میں ایسی کوئی تفصیل مذکور نہ تھی۔قاری صاحب کے ذہن میں تنخواہ بدستور 1200 ریال ہے، اور پاکستان میں پڑھانے کے اعتبار سے کوئی الگ تنخواہ ابھی تک متعین نہیں ہوئی۔البتہ واضح رہے کہ تنخواہ کے معاملے میں فریقین کے درمیان تنازع یا نزاع نہیں، صرف شرعی رہنمائی کے لیے مسئلہ دریافت کیا جا رہا ہے۔
کیا مذکورہ شخص کا خیال درست ہے کہ پاکستان میں پڑھانے کی صورت میں تنخواہ الگ ہونی چاہیے، یا تنخواہ وہی 1200 ریال ہوگی جیسا کہ پہلے معاہدہ ہوا؟اگر پاکستان میں پڑھانے کے لحاظ سے الگ تنخواہ رکھی جائے، تو کیا اس سے اجارہ (employment contract) پر شرعی طور پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مذکورہ معاہدہ میں پاکستان سے پڑھانے کی اجرت کے متعلق کوئی صراحت موجود نہیں، لیکن چونکہ معاہدہ میں ویزہ لگوانے کی تفصیل کے ساتھ ساتھ اجرت ریال کی صورت میں طے کی گئی ہے، جس کا عرف اور معمول سعودی عرب کے اندرونی نظامِ اجرت کے مطابق ہے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاوضہ وہاں بالمشافہ پڑھانے کے اعتبار سے متعین کیا گیا تھا۔
لہٰذا جب قاری صاحب ابھی پاکستان ہی سے تعلیم دے رہے ہیں ، تو اصولاً ایسی صورت میں ان کے لیے اجرتِ مثل (یعنی پاکستان سے آن لائن پڑھانے پر عرف کے مطابق جو اجرت بنے گی) لازم ہوگی اور اس سے سعودیہ میں بالمشافہ پڑھانے والے معاہدہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔تاہم اگر مذکورہ شخص خوش دلی اور رضامندی سے وہی طے شدہ اجرت یعنی 1200 ریال دے دے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
بہتر یہ ہے کہ باہمی رضامندی سے پاکستان سے پڑھانے کی اجرت متعین کر لی جائے، تاکہ بعد میں کسی قسم کا نزاع نہ ہو۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55 ):
(قوله: ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضاً في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار".
المجلة (ص: 87):
مادة 462: فساد الإجارة ينشأ بعضه عن كون البدل مجهولا وبعضه عن فقدان شرائط الصحة الأخر، ففي الصورة الأولى يلزم أجر المثل بالغا ما بلغ، وفي الصورة الثانية يلزم أجر المثل بشرط أن لا يتجاوز الأجر المسمى.
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20 /محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


