03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو فریقو ں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں دو طرفہ جانی اور مالی نقصانات کےضمان کا حکم
88042دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فریق دوم نے فریق اول کا متعدد بار مالی نقصان کیا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے: 

 مالی نقصان کی تفصیل:

1 ۔گندم کی فصل میں جانور چھوڑ دیئے۔

2 ۔کپاس کی فصل میں جانور چھوڑے ،جانوروں کو بھگانے اور ہاتھا پائی ہونے کے رد عمل میں فائرنگ کرکے ٹیوب ویل کے ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچایا، نیز بارہ بکریوں کا اسقاط حمل ہوا۔

3 ۔خوف و ہراس کی وجہ سے 33 ایکڑ رقبہ پر کاشت شدہ کپاس کی فصل(جو تقریبا ڈیڑھ سے دو فٹ بلند ہوچکی تھی،دیکھ بال نہ ہوسکنے کی وجہ سے) ضائع ہوئی۔

4 ۔مزارعین کو ڈرایا، دھمکایا، وہ جان کے خوف سے مزارعت چھوڑ گئے، کوئی دوسرا بھی مزارعت کو تیار نہ ہوا 40 / 45 ایکڑ رقبہ(مجوزہ زراعت سے    روکے جانے کے باعث) بنجر ہو گیا۔

5 ۔رقبہ کے درخت فروخت کیے تو فریق دوم درخت کے خریداروں سے الجھا ،کٹائی کے عمل میں بے جا مداخلت کی خریدار کٹے درخت اور لکڑیاں چھوڑ گئے، اس خوف و ہراس کی فضاء میں فریق اول اونے پونے بیچنے پر مجبور ہوا ،نیز فریق دوم کچھ درخت چوری کاٹ کر لے گیا۔

6 ۔فریق دوم رقبے میں موجود کمروں کے ٹی آر وغیرہ چوری کر کے لے گیا۔

7۔ فریق اول کو 2024 اور 2025 کے گندم کے سیزن میں دشمنی کی بنا پر رقبہ کاشت نہ کرنے دیا گیا جس سے اچھا خاصا مالی نقصان ہوا۔

نوٹ : اس سے پہلے بھی ٹرانسفارمر پر فائرنگ کرکے موٹر وغیرہ جلا چکے اور نقصان کر چکےتھے، وہ فریق اول معاف کر چکا ہے۔

جانی نقصان کی تفصیل:

8 ۔ممتاز احمد کا بیٹا جس کےدماغ کی شریان کا آپریشن ہو چکا تھا ،فریق دوم کی فائرنگ سے اس قدر خوف زدہ ہوا کہ

 علاج معالجہ کے باوجود جانبر نہ ہوسکا۔

9 ۔فریق دوم نے فریق اول کے ایک فرد خلیل احمد کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔

10 ۔فریق اول کے افراد اپنے رقبے میں کام کر رہے تھے، فریق دوم نے فائرنگ شروع کردی، فریق اول نے بھی جوابی فائرنگ کی ،اس دوران ایک سات ماہ کی حاملہ عورت جس کے اور فریق اول کے درمیان دو حویلیاں حائل تھیں، وہ اپنی حویلی میں اندھی گولی کا نشانہ بن کر ( اپنے بچے سمیت) جاں بحق ہو گئی، مرحومہ چونکہ فریق دوم کی رشتہ دار تھی، اس لیے دو نفس کے قتل کا فریق دوم کا دعویٰ فریق اول پر ہے۔

11 ۔فریق اول کی گاڑی پر جب وہ پیشی پر جارہے تھے، فریق دوم نے شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فریق اول کے دو افراد جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوئے،گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی ،لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ 

12 ۔فریق اول کے ایک شخص حافظ شہزاد کے سر میں شدید درد ہوا ،خوف و ہراس کی اس فضاء میں اسے فوری ہسپتال لے جانا ممکن نہ تھا، سرکاری گاڑی پہنچنے میں تاخیر ہوئی، موصوف کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور جاں بحق ہوا۔ 

جواب طلب امور یہ ہیں  کہ:

سؤال نمبر 1:فریق اول کون سے مالی نقصان کا معاوضہ لینے کا حقدار ہے؟ اور کون سے نقصان کا معاوضہ لینا اس کےلیے شرعا درست نہیں؟

سؤال نمبر2:عورت اگرچہ اندھی گولی سے قتل ہوئی ہے، تاہم وہ غیر مسلح اپنے گھر میں تھی اور بظاہر فریقین میں سے کسی کو اس کا قتل مقصود نہ تھا، اس صورت میں اس کا قتل قتل خطاء شمار ہوگا یا عمد؟؟

سؤال نمبر 3:پیٹ میں بچہ تھا، جس فریق پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہو ،بچے کا قصاص دیت وغیرہ میں سے کیا تاوان لازم آئے گا ؟اور کتنا لازم آئے گا؟

سؤال نمبر 4: فریق اول کے تین آدمی عمدا قتل کیے گئے ،دو اس خوف و ہراس کی فضاء اور فریق ثانی کی طرف سے پیدا کئے گئے ماحول میں جاں بحق ہوئے ،ان دو مرحومین کی موت کی ذمہ داری کس حد تک فریق دوم پر عائد ہوتی ہے اور اس کاکیا ازالہ فریق ثانی کے ذمہ پڑتا ہے؟ 

سؤال نمبر 5: فریق اول اپنے تین مقتولین کے قصاص ہی پر مصر ہو تو انہیں دیت قبول کرنے یا معاف کرنے پر مجبور کرنے کا کسی پنچایت وغیرہ کو حق پہنچتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مفتی عالم الغیب نہیں  ہوتا، وہ سؤال کے مطابق جواب دیتا ہے، نیز  مفتی کے جواب دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ سؤال میں ساری صورت حال  واقع کے مطابق  تسلیم کرلی گئی ہے،بلکہ اس تقدیر پر جواب دیا جاتا ہے کہ اگر  یہ صورت حال واقع کےمطابق ہو تو پھر یہ حکم ہے، لہذا اس تمہید کے بعد آپ کے سؤالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔(جواب سؤال اول)پہلے سؤال میں( استفتاء میں ذکر کردہ مالی نقصانات کی  فہرست میں سے)قابل ضمان  اور ناقابل  ضمان مالی نقصانات کے بارے میں پوچھا گیا ہے،جواب سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ یہ نقصانات تین قسم کے ہیں:

(الف)جو مالی نقصان جانوروں کے ذریعہ کیا گیا۔(ب) جوڈرانے، دھمکانے اور فائرنگ سے خواف وہراس کاماحول پیدا کر کے کیاگیا۔(ج) جو براہ راست  فریق اول کے افراد نےخود کئے ۔

(الف)اگر یہ ثابت ہو کہ فصل میں فریق دوم  نے قصداجانور چھوڑے ہیں توفصل میں جانور چھوڑنے سے جو نقصان ہوا اس کا ضمان اور تاوان  فریق دوم   پر لازم ہے۔

الفتاوى الهندية - (ج 47 / ص 162)

 وإن كانت في ملك غير صاحب الدابة ، فإن دخلت في ملك الغير من غير إدخال صاحبها ،بأن كانت منفلتة ، فلا ضمان على صاحبها ، وإن دخلت بإدخال صاحبها ، فصاحب الدابة ضامن في الوجوه كلها سواء كانت  واقفة أو سائرة .وسواء كان صاحبها معها، يسوقها أو يقودها، أو كان راكبا عليها، أو لم يكن معها ،هكذا في الذخيرة ۔

(ب)اگریہ ثابت ہے کہ   فریق اول کےفائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی وجہ سے   فریق دوم  کی بکریوں کا اسقاط حمل ہوا ہےتو اس کا تاوان بھی فائرنگ  کرنے والوں پر ہوگا،اسی طرح 33 فیصد رقبہ پرکاشت شدہ کپاس کی فصل   کاتیاری سے قبل ضیاع، اور  گاڑی کے ٹکرانےسےجو بھی  مالی نقصان ہوا ،اگران سب کا  براہ راست سبب واقعۃ  فریق دوم بنا ہے،تو ان سب کا مالی ضمان بھی فریق دوم پر لازم ہے۔البتہ زمین کاشت کرنے نہ دینےکی صورت میں اگر زمین  سے نفع کسی اور کواجرت  پر دیکر بھی اٹھایا جاسکتا تھا ،لیکن خودایسا نہیں  کیاتو ایسی صورت میں   کوئی تاوان لازم نہیں  اور اگر مذکورہ صورت حال میں  کسی دوسرےکو اجرت پر دیکر نفع اٹھانابھی ممکن نہ تھا تو ایسی صورت میں زمین کی اجرت کے بقدر تاوان وصول کرنا جائز ہے۔

مختصر اختلاف العلماء للطحاوي - (ج 4 / ص 140):

واتفقوا كلهم أنه لو ضرب بطن دابة ألقت جنينا ميتا أن عليه ما نقص الأم

رد المحتار - (ج 24 / ص 312):

مطلب يجب الأجر في استعمال المعد للاستغلال ولو غير عقار، نعم ،ينبغي وجوب الأجر لو معدة للاستغلال فإنه لا يختص بالعقار كما وهم ، وقد أفتى في الحامدية بوجوب الأجر على مستعمل دابة المكاري مستندا للنقل كما سنذكره في الغصب ، ومثله في المرادية فتنبه۔

رد المحتار - (ج 21 / ص 469):

ولا يقاس هذا على مسألة تضمين الساعي إلى ظالم مع أن الساعي متسبب لا مباشر فإن تلك مسألة استحسانية خارجة عن القياس زجرا عن السعاية لكن قد يقال إن هذا حكم الضمان في الدنيا والكلام في الخصومة في الآخرة ، ولا شك في أن كلا من المباشر والمتسبب ظالم آثم وللمظلوم الخصومة معهما وإن اختلف ظلمهما فإن المباشرة ظلمه أشد كمن أمسك رجلا حتى قتله آخر .

رد المحتار - (ج 25 / ص 362):

قال في المنح : والفتوى اليوم بوجوب الضمان على الساعي مطلقا۔

(ج)نیزفائرنگ کرکے   ٹرانسفار مر کو نقصان پہچانے  کا تاوان ااور رقبے پر موجود کمروں کے چوری کردہ ٹی آر اور رقبہ کے کٹےہوئےدرختوں  اور لکڑیوں کی  چوری   کا ضمان بھی  فریق دوم کےمتعلقہ افراد پر ہوگا۔البتہ کٹے ہوئے درختوں کواونے پونے داموں  میں بیچنے سے جو نقصان ہواوہ فریق دوم سے نہیں لیاجائے گا۔

۲۔(جواب سؤال دوم)دو طرفہ فائرنگ میں غیر متعلقہ  شخص  کاقتل  خطا ءہے ،البتہ  ایسا مقتول جس محلے میں رہتا ہو ، اس کے قتل کےذمہ دار بھی وہی ہوں گے اور ان پر اس کی قسامت اور دیت لازم ہوگی ،البتہ اگر ولی مقتول اہل محلہ یا ان کے علاوہ  میں سے کسی متعین پر دعوی کردے اور شرعی گواہی سے دعوی ثابت بھی ہوجائے تو  ایسی صورت میں اس شخص  کے  عاقلہ پر دیت اورخود اس پر کفارہ ہوگا۔

لہذاصورت مسؤلہ میں اگر مقتولہ کے اولیاء نے ہی فریق اول کو ذمہ دار بتایا ہے اور یہ بات شرعی گواہی سے ثابت بھی ہو تو ایسی صورت میں   فریق  اول پر دیت  لازم ہے، البتہ اگرخود اولیاء مقتولہ نے کسی کو بھی قتل میں  نامزد نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں مقتولہ کے  قریبی اہل محلہ(فریق اول)  پر قسامت اور دیت لازم ہوگی۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (ج 18 / ص 93):

( وإن التقى قوم بالسيوف فأجلوا عن قتيل فعلى أهل المحلة ،إلا أن يدعي الولي على أولئك أو على معين منهم ) ؛ لأن القتيل بين أظهرهم ،والحفظ عليهم ،فتكون القسامة والدية عليهم ،إلا إذا أبرأهم الولي بدعوى القتل على أولئك كلهم أو على واحد منهم بعينه، فيبرأ أهل المحلة ،ولا يثبت على المدعى عليه إلا بحجة على ما بينا، وقوله أو على معين منهم ،إن أريد به الواحد من أهل المحلة يستقيم على قول أبي يوسف رحمه الله ؛ لأن أهل المحلة يبرءون بدعوى الولي على واحد منهم بعينه ،وهو القياس ،وعندهما لا يبرءون وهو الاستحسان، وقد بيناه في أوائل الباب، فلا يستقيم، وإن أريد به واحد من الذين التقوا بالسيوف يستقيم بالإجماع ،وقال أبو جعفر رحمه الله في كشف الغوامض :هذا إذا كان الفريقان غير متأولين اقتتلوا عصبية، وإن كانوا مشركين أو خوارج فلا شيء فيه ،ويجعل ذلك ممن أصابه العدو ۔

۳۔(جواب سؤال سوم)اس بارے میں درج ذیل تفصیل ہے:

(۱)حمل(بچہ) اگر زندہ پیدا ہوکر مرا ہو تو اس میں پوری دیت ہے اور(۲)اگر بچہ مردہ حالت میں پیدا ہوا اور اس کے بعد ماں مری تو بچہ میں ’’غرہ‘‘ لازم ہے، جس کی مقدارپانچ سو درہم (یعنی 131.25 تولہ چاندی)ہےاور(۳)ماں کے مرنے کے بعد بچہ مردہ حالت میں پیدا ہوا تو اس کی دیت وغیرہ کچھ لازم نہیں اور یہی حکم ہے  اس وقت بھی ہے(۴)جب ماں کےمرنے کے بعد بچہ  اندر ہی مرجائے  اور پیدا ہی نہ ہویا(۵)جب پیدائش کی صورت میں پہلے یا بعد میں مرنے کاکچھ علم نہ ہوسکے۔(کمایظھرمن تعلیل المسئلۃ)غرض یہ  کہ آخری تینوں صورتوںمیں کچھ بھی لازم نہیں۔

الفتاوى الهندية - (ج 47 / ص 35):

إن ألقت ميتا ثم ماتت الأم فعليه دية بقتل الأم ،وغرة بإلقائها ، وإن ماتت الأم من الضربة ثم خرج الجنين بعد ذلك حياثم مات فعليه دية في الأم ،ودية في الجنين ، وإن ماتت ثم ألقت ميتا فعليه دية في الأم ، ولا شيء في الجنين، كذا في الهداية۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 23 / ص 300):

( وإن ماتت، فألقته ميتا فدية فقط ) وقال الشافعي: تجب الغرة مع الدية ؛ لأن الجنين مات بضربته ظاهرا ،فصار كما إذا ألقته ميتا وهي بالحياة ،ولنا أن موت الأم سبب لموته ظاهرا ؛ لأن حياته بحياتها وتنفسه بتنفسها ،فيتحقق بموتها ،فلا يكون في معنى ما ورد به النص ،إذ الاحتمال فيه أقل، فلا يجب شيء بالشك ۔

۴۔(جواب سؤال چہارم)خوف وہراس کی وجہ سےمرنا قتل بالسبب میں آتا ہے، جس میں قاتل کی برادری پر دیت لازم ہوگی،بشرطیکہ  موت کابراہ راست سبب یہی خوف وہراس ہو،لہذا اگراس سے پہلے کوئی مؤثر  یا بعد میں  کوئی اور سبب  قتل  بھی پایا گیا ہوتو ایسی صورت میں یہ قتل بالسبب شمار نہ ہوگا۔چونکہ ممتاز کے بیٹے کی موت کاسبب خوف ہے، جوفریق دوم کا پیدا کردہ  ہے، لہذا اگر فریق اول  فریق دوم پر  اس صورت  میں ایسا  ماحول پیدا کرنے کا جرم ثابت کردے تو   مقتول کی دیت فریق دوم پر لازم ہوگی،ورنہ نہیں۔ حافظ شہزاد کا سردرد یا اس میں غیر معمولی اضافہ  اگر فریق دوم کے پیدا کردہ خوف وہراس کی وجہ سے نہیں تو اس کی دیت  فریق دوم پر نہیں۔

الفتاوى الهندية - (ج 46 / ص 174):

وأما القتل بسبب فمثل حفر البئر ووضع الحجر في غير ملكه ،كذا في الكافي۔ ولو وطئت دابته إنسانا فقتلته ، وهو سائقها ، أو قائدها فهو قتل بسبب، كذا في المضمرات۔ وموجبه إذا تلف به آدمي الدية على العاقلة ، ولا يتعلق به الكفارة ، ولا حرمان الميراث عندنا، كذا في الكافي۔ والله أعلم۔

۵۔(جواب سؤال پنجم)حق قصاص چونکہ مقتولین کے ورثہ کاشرعی حق ہے،لہذاحکومت یا دوسرا کوئی بھی شخص یا ادارہ مثلا پنچایئت وغیرہ اول معافی کی اور پھر صلح کی ترغیب تو دے سکتی ہے،لیکن  اس بارے میں مجبور نہیں کرسکتی،بلکہ ایساقدام قانون کی رو سے قابل سزا جرم  بھی ہے۔البتہ ایک دفعہ تمام یا بعض ورثہ کےمعاف کرنے یاصلح کرنے سے حق قصاص ساقط ہوجاتا ہے،اس کے بعد حق قصاص کا مطالبہ درست نہیں،لیکن  صلح   نہ کرنےیامعاف نہ کرنےوالوں کو دیت میں سے ان کاحصہ ملے گا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 23 / ص 159):

(  فإن صالح أحد الأولياء من حظه على عوض أو عفا فلمن بقي حظه من الدية ) ؛ لأن كل واحد منهم متمكن من التصرف في نصيبه استيفاء وإسقاطا بالعفو وبالصلح ؛ لأنه يتصرف في خالص حقه ،فينفذ عفوه وصلحه ،فسقط به حقه من القصاص ، ومن ضرورية سقوط حقه سقوط حق الباقين أيضا فيه ؛ لأنه لا يتجزأ ،ألا ترى أنه لا يتجزأ ثبوتا ،فكذا سقوطا ۔۔۔۔۔۔۔۔فإذا سقط انقلب نصيب من لم يعف مالا ؛ لأنه تعذر استيفاؤه ، فيجب المال كما في الخطأ ، فإن سقوط القصاص فيه لمعنى في القتل ، وهو كونه مخطئا، ولا يجب للعافي شيء ؛ لأنه أسقط حقه المتعين بفعله ورضاه بلا عوض، بخلاف شركائه ،لعدم ذلك منهم ،فينقلب نصيبهم مالا والورثة في ذلك كلهم سواء۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۹محرم ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب