03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی کے درمیان تین طلاق میں اختلاف کا حکم
88123طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

بیوی کابیان:

میرے شوہرسعد نے مجھے ایک سال قبل کہا کہ ہمارے درمیان ایک راز کی بات ہے، اگر گھر میں سے کسی کو اس کا علم ہو گیا تو تجھے طلاق ہو گی، طلاق ہو گی، طلاق ہو گی اور تو میری ماں بہن ہو گی،  اس بات کا سب  گھروالوں کو علم ہو گیا اور سب لوگ آگاہ ہو گئے، اس کے بعدشوہر نے رجوع کرلیا،پھر ایک مرتبہ فون پر بات کرتے ہوئے اس نے کہا اگر آج آپ ہسپتال نہ گئی تو تُو مجھ پر طلاق ہو گی، طلاق ہو گی، دو مرتبہ یوں کہا، پھر اس دن میں ہسپتال نہیں گئی۔ اس کے علاوہ سعد جب بھی مجھ سےجھگڑا کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ میں آپ کو  طلاق دے دوں گا، آج سے چھ ماہ قبل مجھے اپنے والد کے گھر چھوڑ کر کہا کہ آپ میرے اوپر طلاق ہیں، آپ میرے اوپر طلاق ہیں،   آپ میرے اوپر طلاق ہیں۔ اس واقعہ کے تین ماہ بعد میرے پاس میسج آیا کہ گھر آجاؤ، میں نے کہا اب تو تم طلاق دے چکے ہو، اس نے کہا حلالہ کروالیں گے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے درمیان رجوع یا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے؟  

شوہرکابیان:

 میں مسمی سعد خان بن ریاض خان بیان کرتا ہوں کہ میں مسماة نازش خان بنت ناصر خان کو طلاق ثلاثہ دینے کا بالکل منکر ہوں، میں نے اس کو کوئی طلاق نہیں دی، البتہ دو سال قبل گھر میں ایک مسئلہ پیش آیا تھا تو اس وقت میں نے بیوی سے کہا تھا کہ اگر اس بات کا گھر وانوں کو علم ہو گیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا، یہ الفاظ دو مرتبہ کہے تھے، اس کے علاوہ میں نے اس کوئی طلاق نہیں دی، میں اس کے بیان کا بالکل منکر ہوں، باقی جو میں نے اس سے حلالہ کروانے کی جوبات کی وہ اس کو تسلی دلانے اور اس کی ضد توڑنےکی غرض سے کی تھی۔

میاں بیوی کے درمیان  فون کے ذریعہ ہونے والا مکالمہ:

*بیوی:* اب تو تم نے طلاق دے دی ہے، اب میں کیا کروں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید جاننا چاہیے کہ میاں اور بیوی کے درمیان  طلاق کے معاملے میں اختلاف کی صورت میں دیانت اور قضاء کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے، قضاءً مرد کا قول اور دیانتاً عورت کا قول معتبر ہوتا ہے، قضاءً کا مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ عدالت میں پہنچ جائے اور عورت کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں تو قاضی مرد سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا اور اس صورت میں خاوند اگر جھوٹا ہوا تو اس کا گناہ  اور وبال اسی پر ہو گا اوردیانتاً یعنی "فیما بینہ وبین اللہ" عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ دیانتاً کا مطلب یہ ہے کہ اگر عورت  خودخاوند سے تین  طلاق کے الفاظ سن لے  یا اس کو کسی دیندار آدمی کے خبر دینے سے شوہر کی طرف سے تین طلاق دینے کا یقین ہو جائے تو وہ شرعاً اپنی ذات کے حق میں اسی پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اس کے لیے خاوند کو اپنے اوپرہمبستری وغیرہ کے لیےقدرت دینا اور اس کے ساتھ رہنا  ہرگز جائز نہیں ہوتا، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے:"المرٲة کالقاضی" یعنی عورت کا حکم قاضی کی طرح ہے، مطلب یہ کہ جس طرح قاضی ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت  پربھی خاوند کے ظاہری الفاظ کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، اگرچہ عدالت گواہی نہ ہونے کی وجہ سے خاوند کے حق میں فیصلہ کردے،کیونکہ ایسی صورت میں عورت درحقیقت دیانت پر ہی عمل کرنے کی پابند ہے۔

لہذا صورتِ مسؤلہ  میں اگرعورت غلط بیانی سے کام نہیں لے رہی اور اس کو اس بات پر یقین  ہے کہ اس کا شوہر اس کو تین طلاقیں دے چکا ہے تو  اس صورت میں دیانتاً بیوی کی بات معتبر مانی جائے گی  ، خصوصاً جبکہ مردوعورت کے درمیان زبانی گفتگو سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مرد نے تین طلاقیں دی ہیں، اسی لیے وہ کہہ رہا ہے کہ میں حلالہ کروا دوں گا، لہذا عورت کے بیان کے مطابق ڈیڑھ سال قبل جب شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں  اسی وقت عورت پر  تین طلاقیں واقع ہوکر فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا  تھا  اور اس پر حرمتِ مغلظہ(جس کے بعد بغیر حلالہ کے شرعاً نکاح نہیں کیا جا سکتا)  ثابت ہو چکی تھی،  اس کے بعد فریقین کا سال بھراسی حالت میں اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں تھا، یہ انتہائی کبیرہ گناہ اورانہوں نے  شریعت کے صریح حکم کی خلاف ورزی  کی ہے، جس پر دونوں مردوعورت کو اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے گڑگڑا کر  توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے ایسے قبیح فعل سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

تین طلاق کے بعد حرمت مغلظہ کا ثابت ہونا  اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، لہذا  عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں  شرعاًآزاد ہے،  البتہ اگر یہ عورت  اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت (یہ عدت وطی ہو گی، جو فریقین کے درمیان علیحدگی کے بعد شروع ہو گی اور یہ وطی بالشبہ شمار ہو گی) گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں،ورنہ جائز نہیں۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ اب عورت کا اسی حالت میں مرد کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں اور صلح کے ذریعہ حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی، چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر عدالت عورت کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ سے مرد  سے قسم لے کر تین طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے تو بھی عورت مرد کے لیے دیانتاً حلال نہیں ہو گی اور اس کا مرد کو ہمبستری وغیرہ کے لیے اپنے اوپر قدرت دینا ہرگز جائز نہیں ہو گا، چنانچہ فقہ حنفی کے ماخذ اور معتبر ترین کتاب "الاصل" (اس کو المبسوط بھی کہا جاتا ہے اوریہ حنفیہ کی ظاہر الروایہ میں سے ایک کتاب ہے)  میں امام محمدرحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہےاورحنفیہ کی دیگر کتب میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے بعد بھی عورت مرد کے لیے شرعاً حلال نہیں ہو گی، اس لیے اگر شوہر عورت کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو عورت پر لازم ہے کہ پیسے وغیرہ دے کر اس سے خلع لے یا کسی مسلمان  عدالت سے چارہ جوئی کر کے اس شخص سے جان چھڑائے، کیونکہ پاکستانی عدالتیں عورت کے بیان کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں، اس طرح عدالتی فیصلہ کے ذریعہ عورت کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 518) ایچ ایم سعید:

في البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال ثم وطئها في العدة عالما بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لا يقع فيها طلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اه ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3/ 522)ایچ ایم سعید:

وهذا إذا لم يكن وطئها بشبهة ظن الحل وإلا وجبت بالوطء عدة أخرى وتداخلتا كما مر، وكذا كلما وطئها تجب عدة أخرى فلا يحل لها التزوج بآخر ما لم تمض عدة الوطء الأخير۔

البناية شرح الهداية (12/ 207) دار الكتب العلمية – بيروت:

قوله: ولو أن امرأة أخبرها ثقة إلى قوله وإذا باع المسلم خمرا، من مسائل كتاب " الاستحسان "، ذكرها تفريعا على مسائل " الجامع الصغير ". وكذا لو قالت لرجل: طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس بأن يتزوجها. وكذا إذا قالت المطلقة الثلاث: انقضت عدتي وتزوجت بزوج آخر ودخل بي ثم طلقني وانقضت عدتي، فلا بأس بأن يتزوجها الزوج الأول. وكذا لو قالت جارية: كنت أمة لفلان فأعتقني لأن القاطع طارئ، ولو أخبرها مخبر أن أصل النكاح كان فاسدا، أو كان الزوج حين تزوجها مرتدا أو أخاها من الرضاعة لم يقبل قوله حتى يشهد بذلك رجلان أو رجل وامرأتان، وكذا إذا أخبره مخبر: أنك تزوجتها وهي مرتدة أو أختك من الرضاعة لم يتزوج بأختها أو أربع سواها، حتى يشهد بذلك عدلان؛ لأنه أخبر بفساد مقارن، والإقدام على العقد يدل على صحته وإنكار فساده، فثبت المنازع بالظاهر، بخلاف ما إذا كانت المنكوحة صغيرة فأخبر الزوج أنها ارتضعت من أمه أو أخته حيث يقبل قول الواحد فيه؛ لأن القاطع طارئ والإقدام الأول لا يدل على انعدامه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 529) دار الفكر-بيروت:

وفي جامع الفصولين أخبرها واحد بموت زوجها أو بردته، أو بتطليقها حل لها التزوج، ولو سمع من هذا الرجل آخر له أن يشهد لأنه من باب الدين فيثبت بخبر الواحد، بخلاف النكاح والنسب. أخبرها عدل أو غير عدل فأتاها بكتاب من زوجها بطلاق ولا تدري أنه كتابه، أو لا إلا أن أكبر رأيها أنه حق فلا بأس بالتزوج. اهـ.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:

إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا. والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.

قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.

قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.

كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج.اهـ.

وفيها سمعت بطلاق زوجها إياها ثلاثا، ولا تقدر على منعه إلا بقتله إن علمت أنه يقربها تقتله بالدواء، ولا تقتل نفسها، وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها، والبائن كالثلاث. اهـ. وفي التتارخانية. وسئل الشيخ أبو القاسم عن امرأة سمعت من زوجها أنه طلقها ثلاثا، ولا تقدر أن تمنعه نفسها هل يسعها أن تقتله في الوقت الذي يريد أن يقربها، ولا تقدر على منعه إلا بالقتل فقال لها أن تقتله، وهكذا كان فتوى الإمام شيخ الإسلام عطاء بن حمزة أبي شجاع، وكان القاضي الإمام الإسبيجابي يقول ليس لها أن تقتله، وفي الملتقط، وعليه الفتوى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

20/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب