| 88572 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاته!
نتھیا گلی میں ہماری ایک سات منزلہ بلڈنگ ہے،اس کے اندر ایک فلور بینک الحبیب کو کرائے پر دے رہے ہیں،بینک والے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ سے یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ ہم سودی کاروبار نہیں کریں گے،کیا ان کو یہ فلور کرایہ پر دینا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب ایگریمنٹ میں سودی امور نہ کرنے کی صراحت موجود ہے، نیز آپ کی نیت سودی امور میں تعاون کی نہیں اور نہ یہ علم ہے کہ یہ جگہ سودی امور کے لیے استعمال کی جائے گی تو یہ فلور کرایہ پر دینے کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع(1/192):
ويتلخص منه أن الإنسان إذا قصد الإعانة على المعصية بإحدى الوجوه الثلاثة المذكورة(الإعانة حقيقةً هى ماقامت المعصية بعين فعل المعين ولا يتحقق إلا بنية الإعانة، أو التصريح بها، أو تعينها في استعمال هذا الشيئ بحيث لا يحتمل غير المعصية)، فإن العقد حرام لا ينعقد، والبائع آثم. أما إذالم يقصد ذلك، وكان البيع سبباً للمعصية، فلايحرم العقد، ولكن إذا كان سبباً محركا، فالبيع حرام، وإن لم يكن محركاً، وكان سبباً قريباً بحيث يُستخدم في المعصية في حالتها الراهنة، ولايحتاج إلى صنعة جديدة من الفاعل، كُره تحريمها وإلا فتنزيهاً.
وعلى هذا يُخرج حكم بيع البناء أو إجارته لبنك ربوى. فإن قصد البائع الإعانة، أو صرح في العقد بكونه يُستخدم للأعمال الربويّة حرم البيع وبطل والظاهر أن تصريح المستأجر حينما يعقد البيع أو الإجارة لإقامة فرع للبنك مثلاً، فإنّه فى حكم التصریح بأن البناء يستعمل للأعمال الربوية. أما إذا بيع البناء أو أجر لغرض آخر للبنك، مثل التخزين وغيره، فلا يدخل في ذلك الحكم، وليس سبباً قريباً للمعصية، فينبغي أن يجوز مع الكراهة تنزيهاً.
قال الله تعالى:
{وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2[
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
29/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


