03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدتِ اجارہ کے دوران اگرحکومت دکان گرادے تو بقیہ ماہ کا کرایہ کیاحکم ہوگا؟
88586اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہم نے پانچ سال کے لیے بہتر لاکھ پچاس ہزار روپے کے عوض تین دکانیں یاسر ولدِ ارشد کو کرایہ پر دی تھیں۔ جب مارکیٹ ڈیمالش ہوئی (گرادی گئی) تو اس وقت دو سال تین ماہ کی مدت گزر چکی تھی، بقیہ دو سال نو ماہ کا عرصہ باقی تھا۔ یاسر ولدِ ارشد یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دو سال نو ماہ کا بقیہ کرایہ واپس کردیا جائے، جبکہ تمام مالکان اور کرایہ داران کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ دکان خالی کرنے کی صورت میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کرے گا اور اسی حالت میں دکان مالک کے حوالے کرنے کا کرایہ دار پابند ہوگا۔ لیکن یاسر ولدِ ارشد نے گورنمنٹ سے لین دین کرکے آپریشن کے لیے راہ ہموار کی اور معاہدہ کے مطابق دکان مالک کے حوالے نہیں کی۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ معاہدہ کے مطابق دکان مالک کے حوالے کرتا تو باقی دو سال نو ماہ کے کرایے کا مطالبہ کرنے میں بحق بجانب ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ حلفاً معاہدے کے باوجود گورنمنٹ سے لین دین کرکے آپریشن کی راہ ہموار کی اور دکان مالک کے حوالے بھی نہیں کی، اب یاسر ولدِ ارشد کا یہ مطالبہ کہ دو سال نو ماہ کا کرایہ واپس دیا جائے درست ہے یا غلط؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئولہ صورت میں شرعاً کرایہ دار یاسر ولدِ ارشد کی بات درست ہے ،لہذا بقیہ مدت دو سال نو ماہ  کا کرایہ اسےواپس کرنا ہوگا ۔

باقی دکانوں کے مالک کا یہ کہنا کہ کرایہ دار یاسرنے لین دین کرکے آپریشن کے لیے راہ ہموار کی خغ تو اول تو اس کا کوئی ثبوت سوال کےساتھ نہیں منسلک کیاگیا اوراگربالفرض آپریشن کے لیے راہ ہموارکی بھی ہوصرف دکان گرانے کی بات کرنےسےاس پرشرعا ضمان نہیں ڈالاجاسکتاہے،کیونکہ گرانے والاوہ نہیں بلکہ فاعلِ مختاریعنی خودحکومت ہےوہ صرف سبب ہےجس سے اس کو گناہ تو ہوگامگرضمان اس پرواجب نہیں۔

حوالہ جات

وفی الاختیارلتعلیل المختار(١/۵۵)

فإن غصبت منہ سقط الأجرلأنہ زال التمکن فبطلت لمابیناأنھاتنعقد شیئافشیئاولوغصبھافی بعض المدة سقطت حصتہ لمابینا.

مجمع الضمانات (1/ 405):

إذا اجتمع المباشر والمسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على حافر البئر تعدياً بما تلف بإلقاء غيره.

 مجمع الضمانات (1/ 454):

إذا اجتمع المباشر والمسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على من دل سارقاً على مال إنسان فسرقه هذه في القاعدة الأخيرة من الأشباه. المبسوط للسرخسي (4/ 342)

مجلة الأحکام العدلیة(ص: 179):

ضمان المتسبب في الضرر مشروط بعمله.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

   1/4/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب