| 88850 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
ایک شادی شدہ عورت اپنے شوہر سے ناراض ہوکر پچھلے چھ مہینے سے اپنی والدہ کے گھر بیٹھی ہے اس دوران دونوں میاں بیوی میں کسی بھی قسم کا ملنا نہیں ہوا ،چھ مہینے بعد شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، بیوی حمل سے بھی نہیں ہے، اب طلاق کے بعد کیا بیوی کو عدت گزارنا ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رخصتی کے بعد طلاق ہوجائے توبہرصورت عدت واجب ہوتی ہے،یہ اللہ تعالی کاحکم ہے،چاہے طلاق سے پہلے میاں بیوی عرصہ درازسے الگ الگ رہتے ہوں،اس لیے صورت مسؤلہ میں بیوی پر طلاق کی عدت گزارنالازم ہے،اگرماہواری آتی ہے توعدت تین ماہواری کاگزرجاناہے اوراگرماہواری نہیں آتی توعدت تین مہینہ ہوگی۔
حوالہ جات
...
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۹/جمادی الاولی۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


