03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسقاطِ حمل پر بیوی کوقتل کا طعنہ دینے کا حکم
88860جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

ایک لڑکی کا ہاتھ زکمی ہے، ڈاکٹر نے تین ماہ کی مہلت دی ہے کہ اگرتین ماہ میں درست نہ ہوا تو اپریشن کرنا پڑے گا، اس دوران لڑکی کو حمل ٹھہرگیا، جبکہ شوہر کو اس بات کا علم بھی تھا اور ڈاکٹر نے ایسا کام کرنے سے سختی سے منع کیا تھا، کیونکہ لڑکی کی حالت حمل برداشت کرنے کی نہیں تھی، ابھی چھ ہفتے ہوئے تھے کہ شوہر نے ہسہپتال جا کر اس کا ابارشن کروا دیا، شوہر نے خود ہی فارم فل کیا اور خود ہی سائن کیے اور ابارشن کروا دیا۔

اب شوہر روزانہ بیوی کو ٹارچر کرتا ہے کہ تم  نے میرے بچے کو مار دیا ہے، جبکہ لڑکی جسمانی طور پر ٹھیک نہیں ہے، شوہر کا کہنا ہے کہ تم نے قتل کیا ہے، جبکہ لڑکی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی کے ذمہ قتل کا گناہ ہو گا؟   

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب تک جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رُوح نہیں پھونکی جاتی اس وقت تک اس کو ساقط کرنے(Abortion) پر شرعاًقتل کا حکم نہیں لگایا جاتا اور حدیث میں تصریح کے مطابق جنین میں چار ماہ مکمل ہونے پر رُوح ڈالی جاتی ہے، البتہ روح ڈالے جانے سے پہلے بھی بلاعذر شرعی حمل کو ساقط کرنا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق عورت کی جسمانی صحت درست نہ ہونے کی بناء پر حمل کو ساقط کروایا گیا ہے تو اس صورت میں شرعاً  عورت اور اس کے شوہر پر کوئی گناہ نہیں ہوا، خصوصا جبکہ چھ ہفتے یعنی بیالیس دن میں جنین کے اعضاء بھی نہیں بنے ہوتے، لہذا شوہر کا آپ کو قتل کا الزام دینا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ بغیر کسی ثبوت کے کسی پر کوئی بہتان لگانا کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے، جس سے بچنا ضروری ہے، لہذا آپ کے شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کو قتل کا طعنہ دے کر تکلیف (Torturer)نہ پہنچائے، کیونکہ کسی بھی مسلمان کو بلا وجہ تکلیف پہنچانا سخت گناہ ہے، خصوصاً جبکہ اس ابارشن کا ذمہ دار خود شوہر ہے، کیونکہ سوال میں تصریح کے مطابق اس نے ابارشن کا خود فارم فل کیا اور خود ہی سائن کر کے ہسپتال میں جمع کروایا، اس لیے اب عورت پر اس کی ذمہ داری ڈالنا درست نہیں۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (2/ 251، رقم الحديث: 2170) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت:

حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، عن قزعة، عن أبي سعيد، ذكر ذلك عند النبي صلى الله عليه وسلم يعني العزل قال: «فلم يفعل أحدكم؟، ولم يقل فلا يفعل أحدكم، فإنه ليست من نفس مخلوقة إلا الله خالقها»

صحيح الإمام البخاري (2/ 404) مكتَبة المَعارف للنَّشْر والتوزيع، الرياض:

عن عبد الله: حدثنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهو الصادق المصدوق"إن أحدكم يجمع [خلقه] في بطن أمه أربعين يوما [وأربعين ليلة]، ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله إليه ملكا، [فيؤمر] بأربع كلمات، [ويقال له: اكتب عمله، ورزقه، وأجله، وشقي أو سعيد]، فيكتب عمله، وأجله، ورزقه، وشقي أو سعيد، ثم ينفخ فيه الروح.

الفتاوى الهندية (5/ 356) دار الفكر، بیروت:

العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية.

ولا يجوز للمرضعة دفع لبنها للتداوي إن أضر بالصبي كذا في القنية. امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

7/جمادی الاولی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب