| 88875 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
میں شازمہ خان بنت ناصر خان عرض گزار ہوں کہ میرا نکاح مغیث اثر بن عظیم خان سے ہوا تھا،نکاح کے وقت حق مہر ایک لاکھ روپے نقد مقرر ہوا تھا، مگر آج تک اس کی ادائیگی نہیں کی گئی،نکاح کے بعد میرے شوہر نے یہ دعویٰ کیا کہ نکاح کے وقت دی گئی سونے کی چین اور موبائل فون ہی حق مہر تھے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سونے کی چین نکاح کے وقت نہیں، بلکہ شادی کے بعد منہ دکھائی کے موقع پر تحفے کے طور پر دی گئی تھی اور موبائل فون شادی سے پہلے ایک پرانا فون دیا گیا تھاجو بعد میں اس نے خود غصے میں توڑ دیا۔لہٰذا یہ دونوں چیزیں حق مہر میں شمار نہیں ہوتیں۔بعد ازاں، میرے شوہر مغیث اثر بن عظیم خان نے مجھے 2 جولائی2025ء کو تحریری طور پر تین طلاقیں دے دی، جس کے کاغذات میرے پاس موجود ہیں۔طلاق سے تین دن قبل 29 جون 2025 کو میری ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی، جو اس وقت صرف چند دن کی تھی، بچی کی پیدائش کے بعد سے اب تک تقریباً چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے،اس دوران میں اور میرے اہل خانہ ہی بچی کے تمام اخراجات برداشت کر رہے ہیں، جبکہ اس کے والد (مغیث اثر) کی طرف سے اب تک ایک روپیہ بھی خرچ کی صورت میں ادا نہیں کیا گیا،سوال یہ ہے:
1۔کیا مذکوره گولڈ چین اور موبائل فون حق مہر میں شمار ہوں گے؟
2۔کیا شوہر پر حق مہر کی مکمل ادائیگی لازم ہے جب کہ ابھی تک وہ ادا نہیں کیا گیا؟
میں عدالت میں اس فتوے کو بطور شرعی رہنمائی پیش کرنا چاہتی ہوں، تاکہ کیس کے فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے ہوں، نکاح اور طلاق وغیرہ کے کاغذات ساتھ منسلک ہیں۔
وضاحت: لڑکا پہلے سے شادی شدہ تھا، اس کی ایک بیٹی بھی تھی اور اس نے جھوٹ بول کر اپنے کو کنوارا ظاہر کر کے شادی تھی، ابھی ہم نے عدالت میں عدت اور بچی کے خرچہ کی درخواست دائر کی ہوئی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2۔ نکاح کے وقت جو چیز بطورِ حق مہر طے کی جاتی ہے وہی عورت کا شرعی حق مہر ہوتا ہے اور شوہر کے ذمہ اسی کی ادائیگی واجب ہوتی ہے اور سوال کے ساتھ منسلک نکاح نامہ میں تصریح ہے کہ حق مہر ایک لاکھ (100000)روپے غیرمؤجل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک لاکھ روپے حق مہر کی ادائیگی نکاح کے فورا بعد واجب ہو گی، اس لیے اصل حکم تو یہی تھا کہ مذکورہ شخص نکاح کے وقت اس ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کرتا، لیکن ابھی تک اس نے چونکہ ادا نہیں کیا تو اب بھی حکم یہی ہے کہ وہ جلد از جلد اس ایک لاکھ روپے حق مہر کی ادائیگی کرے۔
باقی شوہر کا سونے کی زنجیر اور موبائل کو حق مہر قرار دینا بالکل جائز نہیں،کیونکہ نکاح نامہ میں ان میں سے کسی چیز کو حق مہر بنانے کا ذکر نہیں ہے اور عورت بھی ان چیزوں کے حق مہر ہونے کا انکار کر رہی ہے، اس لیے شخصِِ مذکور کی ذمہ داری ہے کہ غلط بیانی سے کام نہ لے، بلکہ دیانیت داری اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے نکاح نامہ میں ذکرکیا گیا ایک لاکھ روپیہ بطورِ حق مہر ادا کرے اور بلا وجہ اس میں ٹال مول سے کام نہ لے، ورنہ یہ حق مہر آخرت میں نیکیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گا۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 592) الناشر: شركة مكتبة ومطبعة الحلبي – مصر:
عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مطل الغني ظلم، وإذا أحلت على مليء فاتبعه، ولا تبع بيعتين في بيعة»: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
11/جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


