| 88990 | روزے کا بیان | روزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان |
سوال
مفتیانِ کرام! میرا ایک سوال ہےکہ اگر کوئی بندہ اپنی زندگی کے دس فرض روزے مشت زنی کی وجہ سے توڑ دے، تو ان کی صرف قضاء لازم ہے یا کفارہ بھی ؟نیز کفارے کا کھاناغیر مسلموں کو کھلایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مشت زنی کا ارتکاب بہت ہی گھناؤنا اور قبیح فعل ہے۔ پھر روزے کی حالت میں یہ اور برا عمل ہو جا تاہے تاہم اس صورت میں صرف قضاء لازم ہے کفارہ نہیں ۔جتنے روزے توڑے گئے ہیں اتنے دوبارہ رکھے جائیں۔
حوالہ جات
(بدائع الصنائع فی تر تیب الشرائع :(2/616
أما وجوب القضاء: فإنه يثبت بمطلق الإفساد سواء كان صورة ومعنى، أو صورة لا معنى، أو معنى لا صورة، وسواء كان عمدا، أو خطأ، وسواء كان بعذر، أو بغير عذر، لأن القضاء يجب جبرا للفائت فيستدعي فوات الصوم لا غير،
(الدر المختار شرح تنویر الابصار:(3/381
(أو لمس) ولو بحائل لا يمنع الحرارة أو استنمی بكفه أو بمباشرة فاحشة ولو بين المرأتين (فأنزل) قيد للكل حتى لو لم ينزل لم يفطر كما مر.(أو أفسد غير صوم رمضان أداء) لاختصاصها قضی فقط .
(رد المحتار علی الدر المختار:(3/382
والحاصل: أنه لا يجب شيء في عشر صور ويجب القضاء فقط في أربع والقضاء والكفارة في أربع أفاده ح (قوله: في الصور كلها) أي المذكورة تحت قوله وإن أفطر خطأ إلخ لا صور التفريع (قوله: فقط) أي بدون کفارۃ.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


