03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جن جانوروں کو تجارت کی نیت سے رکھا جائے ان میں زکوۃ کا حکم
89119زکوة کابیانجانوروں کی زکوة کابیان

سوال

جن جانوروں کو خریدتے وقت بیچنے کی نیت نہ ہو، بلکہ ان کو پالنے کی اور افزائش نسل کر کے ان کے بچے بیچنے کی نیت ہو،ان جانورں اور ان کے بچوں میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ جانور اگر سائمہ ہوں، یعنی سال کے اکثر حصے میں چر کر خود اپنا چارہ حاصل کریں، مالک ان پر خرچ نہ کرے،  ان کو پالنے کا مقصد افزائشِ نسل ہو، اور ان کی تعداد نصاب کو پہنچ جائےتو ان جانوروں اور ان کے بچوں دونوں میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔

اگر مذکورہ جانور علوفہ ہوں، یعنی سال کا اکثر حصہ خود چر کر گھاس نہ کھائیں بلکہ مالک ان پر خرچ کرےتو  خریدتے وقت  اگرتجارت کی نیت ہواوران کی قیمت نصاب کو پہنچےتو ان   میں زکوٰۃ ہوگی۔ اگرخریدتے وقت  تجارت کی نیت نہ ہو تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ لیکن جب بھی ان جانوروں کو بیچا جائے گا اور ان کی مالیت دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر نصاب پورا ہوتا ہو تو اس سے زکوۃ دی جائے گی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 178):

فإن كانت للتجارة فحكمها حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة كذا في المضمرات.

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 428):

وكذا لا يجب في ‌العلوفة...... حتى لو كانت العلوفة للتجارة كان فيها زكاة التجارة.

المبسوط للسرخسي (2/ 178):

وينظر في السائمة إلى كمال النصاب فتجب الزكاة فيه ‌وإن كانت قيمتها ناقصة عن مائتي درهم وينظر إلى قيمتها إن أراد بها التجارة، فإن كانت أقل من مائتي درهم لم تجب الزكاة، وإن كان العدد كاملا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 21):

وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة لما ذكرنا فيما تقدم بخلاف الذهب والفضة فإنه لا يحتاج فيهما إلى نية التجارة؛ لأنها معدة للتجارة بأصل الخلقة.

المحيط البرهاني (2/ 247):

ثم نية التجارة لا عمل (لها) ما لم ينضمَّ إليها الفعل بالبيع والشراء أو السوم فيما يسام، حتى إن من كان له عبد للخدمة أو ثياب للبذلة نوى فيهما التجارة لم تكن للتجارة حتى يبيعها، فيكون في الثمن الزكاة مع ماله.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 176):

وكذا لو أسيمت للحم، ولو أسيمت للتجارة ففيها زكاة التجارة دون السائمة هكذا في البدائع.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

05/جمادى الثانية 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب