| 89135 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
میں اپنے گھر گیا تو وہاں پہلے سے دو افراد موجود تھے۔ کچھ دیر بعد آہستہ آہستہ آٹھ سے دس مزید افراد بھی آگئے۔ ان افراد نے مجھے گھیر لیا، مجھ پر تشدد کیا، مجھے سنگین دھمکیاں دیں، میرا موبائل فون اور میرا سامان مجھ سے چھین لیا، اور مجھے کسی سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان لوگوں نے مجھے زبردستی اپنے پاس بٹھا کر مسلسل یہ کہا کہ اپنی بیوی کو طلاق دو، ابھی کے ابھی طلاق دو۔ میں شدید خوف، دباؤ اور جبر کی حالت میں تھا۔ پھر ان لوگوں نے مجھے گھر سے باہر لے جا کر یہ دھمکیاں دیں کہ: ہم تمہیں تھانے لے جائیں گے، ہم تمہیں کارخانے میں بند کر دیں گے، ہم وہاں تمہیں ماریں گے۔ ان لوگوں نے میری بیوی کو گالیاں دیں اور اس کے بارے میں بیہودہ، غلط اور انتہائی تکلیف دہ باتیں کیں۔ ان سخت حالات، دھمکیوں اور جان کے خوف کی وجہ سے میں نے مجبوراً اور جبر کے تحت اپنی بیوی کے سامنے تین بار طلاق کے الفاظ ادا کیے۔ میری بیوی کی بہن نے جو کاغذ لکھ کر میرے سامنے رکھا، اس پر بھی مجھ سے زبردستی دستخط اور انگوٹھا لگوایا گیا۔ میری نیت، ارادہ اور دل کی رضا ہرگز طلاق دینے کی نہ تھی۔ میں آزاد ماحول، اطمینان اور ہوش میں رہتے ہوئے طلاق دینے پر راضی نہیں تھا۔ تمام الفاظ اور دستخط صرف جبر، خوف اور زبردستی کے نتیجے میں ادا ہوئے۔ایسی حالت میں دی گئی طلاق کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے تین بار صریح طلاق کے الفاظ اپنی زبان سے کہہ دیے جس کی وجہ سےتین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ جبر کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي ).24/ 40(:
وقالوا: طلاق المكره، واقع سواء كان المكره سلطانا، أو غيره أكرهه بوعيد متلف، أو غير متلف.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي ). 3/ 235(:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ). 5/ 35(
(وأما) (أنواعه) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04/جمادی الثانیہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


